تاواو: ملائیشیا کے شہر تاواو میں آن لائن فراڈ کیس میں گرفتار 74 چینی شہریوں کے ریمانڈ میں مزید توسیع کر دی گئی ہے۔ یہ افراد ایک ریزورٹ پر چھ...
تاواو: ملائیشیا کے شہر تاواو میں آن لائن فراڈ کیس میں گرفتار 74 چینی شہریوں کے ریمانڈ میں مزید توسیع کر دی گئی ہے۔ یہ افراد ایک ریزورٹ پر چھاپے کے دوران گرفتار کیے گئے تھے اور ان پر بین الاقوامی آن لائن دھوکہ دہی میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔
عدالت کے مطابق مجسٹریٹ ڈون اسٹیوِن مالنجوم نے 57 ملزمان کے ریمانڈ میں دو دن جبکہ باقی افراد کے لیے تین دن کی توسیع کی منظوری دی۔ عدالت نے ہدایت کی کہ زیر حراست افراد کو اپنے وکلاء اور اہل خانہ سے رابطے کی سہولت فراہم کی جائے۔
حکام کے مطابق یہ کارروائی ایک ایسے نیٹ ورک کے خلاف کی گئی ہے جو گزشتہ تین ماہ سے خود کو چینی پولیس ظاہر کر کے آن لائن فراڈ کر رہا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ملزمان امریکہ میں مقیم چینی نژاد افراد کو نشانہ بنا رہے تھے۔
تحقیقات کے دوران عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ بعض ملزمان کو فوری طبی سہولت فراہم کی جائے، جبکہ اگر وہ تفتیش میں مکمل تعاون کریں تو ریمانڈ کی مدت کم بھی کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ملزمان کو دورانِ حراست مبینہ بدسلوکی سے متعلق شکایات درج کرانے کی بھی اجازت دی گئی ہے۔
پولیس کی جانب سے بتایا گیا کہ ریمانڈ میں توسیع اس لیے ضروری تھی تاکہ مکمل تحقیقات کی جا سکیں، کیونکہ زبان کے مسائل کے باعث تمام ملزمان کے بیانات ابھی تک ریکارڈ نہیں کیے جا سکے۔ ذرائع کے مطابق صرف ایک ملزم انگریزی زبان جانتا ہے جبکہ مترجمین کی کمی بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
یہ کیس تعزیراتی قانون کی دفعہ 420 اور 120 (بی) کے تحت درج کیا گیا ہے، جو دھوکہ دہی اور مجرمانہ سازش سے متعلق ہیں۔ ملزمان نے عدالت سے اپیل کی کہ ان کے ریمانڈ کی مدت کم کی جائے، کیونکہ کچھ افراد صحت کے مسائل، پاسپورٹ کی مدت ختم ہونے اور اہل خانہ سے رابطے کی ضرورت کا سامنا کر رہے ہیں۔
مزید یہ کہ بعض ملزمان نے بنیادی ضروریات جیسے صفائی کا سامان فراہم کرنے کی درخواست بھی کی، جبکہ کچھ افراد نے میڈیا کوریج کی خواہش ظاہر کی اور کچھ نے اپنی تصاویر شائع نہ کرنے کی درخواست کی۔
حکام کے مطابق ہفتہ کے روز دو ٹرکوں کے ذریعے ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں تقریباً تین گھنٹے تک مترجم کے ذریعے ہر ملزم کا مؤقف سنا گیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل مجموعی طور پر 80 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، جن میں 78 چینی شہری (بشمول چار خواتین) اور ایک ایک شہری میانمار اور لاؤس کا شامل تھا۔ ان کی عمریں 17 سے 46 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان گزشتہ تین ماہ سے ریاست صباح میں مقیم تھے اور ایک ریزورٹ کو اپنی سرگرمیوں کے لیے استعمال کر رہے تھے، جہاں سے وہ آن لائن فراڈ نیٹ ورک چلا رہے تھے۔

COMMENTS