کوالالمپور: ملائیشیا میں رضاکارانہ واپسی کے پروگرام کے تحت دو لاکھ سے زائد غیر ملکی شہری اپنے ممالک واپس جا چکے ہیں، جبکہ مجموعی رجسٹریشن کی...
کوالالمپور: ملائیشیا میں رضاکارانہ واپسی کے پروگرام کے تحت دو لاکھ سے زائد غیر ملکی شہری اپنے ممالک واپس جا چکے ہیں، جبکہ مجموعی رجسٹریشن کی تعداد تقریباً 2 لاکھ 29 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ حکام کے مطابق پروگرام کی مدت ختم ہونے سے قبل اس میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل امیگریشن داتوک زکریا شعبان نے بتایا کہ مائیگرنٹ ریپیٹری ایشن پروگرام 2.0 کے تحت 228,961 غیر ملکی شہریوں نے رجسٹریشن کرائی، جن میں سے 204,000 سے زائد افراد اب تک وطن واپس جا چکے ہیں۔ اس پروگرام سے حکومت کو اب تک 114.59 ملین رنگٹ کی آمدنی بھی حاصل ہوئی ہے۔
ان کے مطابق اس پروگرام میں سب سے زیادہ تعداد انڈونیشیا کے شہریوں کی ہے، جبکہ بنگلہ دیشی شہری دوسرے نمبر پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام میں شرکت کا رجحان ابتدا میں سست رہتا ہے، لیکن آخری تاریخ قریب آنے پر اچانک اضافہ ہو جاتا ہے۔
انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا، “یہ پروگرام مختلف مراحل میں آگے بڑھتا ہے۔ ابتدا میں ردعمل کم ہوتا ہے، لیکن جیسے جیسے آخری تاریخ قریب آتی ہے، تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو جاتا ہے۔” ان کے مطابق اسی وجہ سے امیگریشن دفاتر میں اس وقت رش بڑھ گیا ہے، کیونکہ روزانہ درخواستوں کی پروسیسنگ کی ایک حد مقرر ہے۔
زکریا شعبان نے بتایا کہ محکمہ امیگریشن نے پروگرام میں توسیع کے لیے درخواست دی ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق اس بارے میں اعلان وزیر داخلہ داتوک سری سیف الدین نصیون اسماعیل کی جانب سے کیا جائے گا۔
یہ پروگرام گزشتہ سال 19 مئی 2025 کو شروع ہوا تھا اور جزیرہ نما ملائیشیا اور لابوان میں 30 اپریل 2026 تک جاری رہے گا۔ اس پروگرام کے تحت غیر دستاویزی مہاجرین، اوور اسٹے کرنے والے افراد اور وہ لوگ جن کے پاس درست اجازت نامے نہیں ہیں، انہیں رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑنے کی اجازت دی جاتی ہے، اور اس دوران ان کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جاتی۔
دوسری جانب امیگریشن حکام نے ایک بڑی کارروائی کے دوران جعلی دستاویزات تیار کرنے والے ایک گروہ کو بھی بے نقاب کیا ہے، جو گزشتہ سات سال سے زائد عرصے میں 100 ملین رنگٹ سے زیادہ کما چکا تھا۔ یہ کارروائی 13 اور 14 اپریل کو “اوپس سرکاپ” کے تحت چھ مختلف مقامات پر کی گئی۔
حکام کے مطابق اس آپریشن سے قبل چھ ماہ تک خفیہ معلومات اکٹھی کی گئیں، جس میں عوامی ذرائع اور میڈیا رپورٹس سے مدد لی گئی۔ کارروائی کے دوران 111 پاسپورٹس، 10 لیپ ٹاپ، 6 موبائل فون اور 3,950 رنگٹ نقد برآمد کیے گئے۔
اس کیس میں 9 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن کی عمریں 26 سے 61 سال کے درمیان ہیں۔ گرفتار افراد میں تین نیپالی، تین بھارتی، ایک بنگلہ دیشی، ایک مقامی شہری اور ایک ویتنامی خاتون شامل ہیں، جو مستقل رہائشی ہیں۔ مقامی شخص اور ویتنامی خاتون کو اس گروہ سے منسلک کمپنیوں کے مالکان اور ڈائریکٹرز قرار دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق مرکزی ملزم مہندرا جنگ شاہ ہے، جسے “ایم جے” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ وہ 43 سالہ نیپالی شہری ہے اور اس کے پاس درست ایکسپیٹری ایٹ پاس موجود تھا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ گروہ جعلی طویل مدتی امیگریشن پاس تیار کر کے غیر ملکی کارکنوں کو قانونی ملازم ظاہر کرتا تھا۔

COMMENTS