ملاکا: ملائیشیا کے شہر ملاکا میں ایک پاکستانی شہری کو غیر قانونی طور پر کچرا پھینکنے کے جرم میں عدالت نے 10 ہزار رنگٹ جرمانہ عائد کر دیا۔ مق...
ملاکا: ملائیشیا کے شہر ملاکا میں ایک پاکستانی شہری کو غیر قانونی طور پر کچرا پھینکنے کے جرم میں عدالت نے 10 ہزار رنگٹ جرمانہ عائد کر دیا۔ مقدمے کی سماعت سیشن کورٹ ایئر کروہ میں ہوئی جہاں ملزم نے جرم کا اعتراف کیا۔
عدالتی کارروائی کے مطابق 32 سالہ پاکستانی شہری شاہ سردار پر الزام تھا کہ اس نے 27 فروری 2024 کو صبح تقریباً 10 بجے ملاکا ٹینگاہ کے علاقے باتو بیرینڈم میں واقع ایک سرکاری زمین پر گھریلو فضلہ پھینکا۔ یہ جگہ باقاعدہ طور پر کچرا ٹھکانے لگانے کے لیے مختص نہیں تھی بلکہ ایک ممنوعہ علاقہ اور عوامی گزرگاہ کے قریب واقع زمین تھی۔
استغاثہ کے مطابق یہ کارروائی اس وقت سامنے آئی جب یکم مارچ 2024 کو عوام کی جانب سے ایک ویڈیو شکایت موصول ہوئی، جس میں غیر قانونی طور پر کچرا پھینکنے کی سرگرمی واضح طور پر دکھائی گئی تھی۔ متعلقہ حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے موقع پر معائنہ کیا، جہاں پرانے فرنیچر، بستر اور گدے سمیت مختلف قسم کا گھریلو کچرا پایا گیا۔
بعد ازاں ایک آپریشن کے دوران ایک نسان وینیٹ قسم کی گاڑی بھی ضبط کی گئی، جس کے ذریعے کچرا منتقل کیا جا رہا تھا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملزم ایک فرنیچر کے کاروبار سے وابستہ کمپنی میں کام کرتا تھا اور اس نے یہ فضلہ ایک دکان سے حاصل کر کے مذکورہ مقام پر پھینکا۔
یہ مقدمہ ٹھوس فضلہ کے انتظام اور عوامی صفائی کے ایکٹ 2007 کے تحت درج کیا گیا، جس کے تحت غیر قانونی کچرا پھینکنے پر سخت سزائیں مقرر ہیں۔ عدالت میں فرد جرم عائد ہونے کے بعد ملزم نے اپنے جرم کا اعتراف کیا، جس کے بعد کیس کی سماعت مکمل کی گئی۔
دفاعی وکیل نے عدالت سے نرمی کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم اس وقت بے روزگار ہے اور اپنے اہل خانہ، جن میں اس کی بیوی اور ایک بچہ شامل ہیں، کی کفالت کا ذمہ دار ہے۔ وکیل کے مطابق ملزم نے حکام کے ساتھ مکمل تعاون کیا اور اپنی غلطی کو تسلیم کیا، اس لیے سزا میں رعایت دی جائے۔
تاہم استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ ملزم طویل عرصے سے ملک میں مقیم ہے اور اسے مقامی قوانین کا علم ہونا چاہیے تھا۔ پراسیکیوشن کے مطابق حکومت غیر قانونی کچرا پھینکنے کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے بھاری اخراجات برداشت کر رہی ہے، اس لیے ایسے جرائم پر سخت سزا دینا ضروری ہے تاکہ دوسروں کے لیے بھی عبرت ہو۔
عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزم کو 10 ہزار رنگٹ جرمانے کی سزا سنائی۔ ساتھ ہی یہ بھی حکم دیا گیا کہ اگر ملزم جرمانہ ادا نہ کرے تو اسے چھ ماہ قید کی سزا بھگتنا ہوگی۔
یہ کیس اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملائیشیا میں ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جا رہی۔ حکام کا کہنا ہے کہ عوامی تعاون کے بغیر ایسے مسائل پر قابو پانا ممکن نہیں، اسی لیے شہریوں کو شکایات درج کرانے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق غیر قانونی کچرا پھینکنے سے نہ صرف ماحول کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ عوامی صحت بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متعلقہ ادارے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور مسلسل نگرانی کے ساتھ سخت اقدامات کر رہے ہیں۔

COMMENTS