جوہر باہرو: محکمہ امیگریشن ملائشیا کے صوبہ جوہر کے دفتر نے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف جاری مہم کے تحت ایک کارروائی میں پاکستانی شہری کو ح...
جوہر باہرو: محکمہ امیگریشن ملائشیا کے صوبہ جوہر کے دفتر نے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف جاری مہم کے تحت ایک کارروائی میں پاکستانی شہری کو حراست میں لے لیا ہے۔ یہ کارروائی 2 اپریل 2026 کو پروگرام “ریپیٹری ایسی مائگرین 2.0” کے دوران وسما پرسیکتوان میں کی گئی۔
محکمہ امیگریشن کے مطابق یہ کارروائی انٹیگریٹی ڈویژن اور انفورسمنٹ ڈویژن کی جانب سے مشترکہ طور پر کی گئی، جس میں عوامی معلومات اور خفیہ رپورٹوں کی بنیاد پر اچانک چیکنگ کی گئی۔ حکام کو اطلاعات ملی تھیں کہ غیر ملکی ایجنٹس یا تیسرے فریق اس پروگرام میں ملوث ہو سکتے ہیں، جس کے بعد نگرانی کو مزید سخت کیا گیا۔
کارروائی کے دوران ایک پاکستانی شہری کو حراست میں لیا گیا جو دفتر کے باہر اپنے دوست کا انتظار کر رہا تھا۔ حکام کے مطابق مذکورہ شخص اپنی شناخت اور سفری دستاویزات پیش کرنے میں ناکام رہا، جس کے باعث اسے فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق گرفتار شخص کی عمر تقریباً 30 سال ہے۔
امیگریشن حکام نے بتایا کہ اس شخص کے خلاف امیگریشن ایکٹ 1959/63 اور امیگریشن ریگولیشنز 1963 کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔ مزید تفتیش کے لیے اسے ڈیپو امیگریشن سیتیا ٹروپیکا منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اس کے کیس کی مکمل چھان بین جاری ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں ملک میں غیر قانونی مقیم افراد کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہیں، جن کا مقصد امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے افراد جو درست سفری دستاویزات کے بغیر ملک میں موجود ہیں، ان کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔
محکمہ امیگریشن کے مطابق “ریپیٹری ایسی مائگرین 2.0” پروگرام غیر قانونی تارکین وطن کو رضاکارانہ طور پر اپنے ملک واپس جانے کا موقع فراہم کرتا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ حکام نے واضح کیا کہ اس پروگرام کا غلط استعمال کرنے والے عناصر کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
مزید برآں، امیگریشن حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی یا غیر قانونی تارکین وطن سے متعلق معلومات متعلقہ اداروں کو فراہم کریں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔ حکام کے مطابق عوامی تعاون کے بغیر اس طرح کی مہمات کی کامیابی ممکن نہیں۔
ملائیشیا میں حالیہ برسوں کے دوران غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں تیز کی گئی ہیں۔ حکومت “ملائشیا مدانی” پالیسی کے تحت ملک کی سلامتی، خودمختاری اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔
حکام نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک میں قانون کی پاسداری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات نہ صرف ملکی سلامتی کے لیے ضروری ہیں بلکہ قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی اہم ہیں۔

COMMENTS