سمرہان: ملائیشیا کے علاقے کوتا سمرہان میں پولیس نے ایک کارروائی کے دوران ایک پاکستانی طالب علم سمیت دو افراد کو منشیات رکھنے کے الزام میں گر...
سمرہان: ملائیشیا کے علاقے کوتا سمرہان میں پولیس نے ایک کارروائی کے دوران ایک پاکستانی طالب علم سمیت دو افراد کو منشیات رکھنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی جمعرات کے روز ایک شاپنگ مال میں کی گئی۔
پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والے دونوں افراد کی عمریں 23 اور 27 سال کے درمیان ہیں۔ ابتدائی تفتیش میں بتایا گیا ہے کہ ملزمان کے قبضے سے 1.09 کلوگرام وزن کی منشیات برآمد ہوئی، جس کی مالیت تقریباً 3,285 رنگٹ بتائی جا رہی ہے۔
قائم مقام ڈسٹرکٹ پولیس چیف، ڈی ایس پی بیری ولیم نے بتایا کہ چھاپے کے دوران دو مختلف مقامات سے شواہد اکٹھے کیے گئے۔ پولیس نے سیاہ اور شفاف پلاسٹک بیگز میں بند خشک پودوں کے ٹکڑے بھی برآمد کیے، جن کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ چرس (گانجا) ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے دوران 27 سالہ مقامی ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ 2015 سے منشیات استعمال کر رہا ہے، جبکہ پاکستانی طالب علم نے اس معاملے میں کسی بھی قسم کی ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
پولیس کے مطابق دونوں ملزمان کے پیشاب کے نمونوں کی جانچ کی گئی، جس میں یہ بات سامنے آئی کہ وہ میتھ ایمفیٹامین (شبو) اور بینزودیازپین جیسی منشیات کے استعمال میں ملوث تھے۔ اس سے کیس کی نوعیت مزید سنجیدہ ہو گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کی تحقیقات ملائیشیا کے خطرناک منشیات ایکٹ 1952 کے تحت کی جا رہی ہیں۔ اس قانون کے تحت جرم ثابت ہونے کی صورت میں ملزمان کو عمر قید اور کم از کم 15 کوڑوں کی سزا ہو سکتی ہے۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملائیشیا میں منشیات کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جا رہی ہیں، خاص طور پر تعلیمی اداروں اور شہری علاقوں میں منشیات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سیکیورٹی ادارے متحرک ہیں۔
پولیس نے کہا ہے کہ کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا اس معاملے کے پیچھے کوئی منظم نیٹ ورک موجود ہے یا نہیں۔

COMMENTS