کانگر: ملائیشیا کی ریاست پرلس میں جدید ڈرون ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ایک اہم مظاہرہ پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں جدید “اسٹاکر وی ایکس ای 30...
کانگر: ملائیشیا کی ریاست پرلس میں جدید ڈرون ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ایک اہم مظاہرہ پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں جدید “اسٹاکر وی ایکس ای 30” ڈرون کی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ پیش کیا گیا۔ اس تقریب میں پرلس کے پولیس سربراہ محمد عبد الحلیم نے خصوصی شرکت کی اور جدید سیکیورٹی ٹیکنالوجی کا مشاہدہ کیا۔
یہ مظاہرہ پرلس ایئر سپیس سینڈ باکس میں منعقد ہوا، جہاں ڈرون کی جدید خصوصیات کو عملی طور پر پیش کیا گیا۔ پروگرام کا مقصد قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو جدید فضائی نگرانی کے نظام سے آگاہ کرنا تھا۔
مظاہرے کے دوران ڈرون کی خودکار پرواز (آٹونومس فلائٹ) اور “بیونڈ ویژول لائن آف سائٹ” (بی وی ایل او ایس) جیسی جدید صلاحیتوں کو نمایاں کیا گیا، جو اس ٹیکنالوجی کو روایتی ڈرونز سے ممتاز بناتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق بی وی ایل او ایس ٹیکنالوجی کے ذریعے ڈرون کو آپریٹر کی براہ راست نظر سے باہر بھی مؤثر انداز میں چلایا جا سکتا ہے، جو سیکیورٹی اور نگرانی کے نظام میں انقلابی پیش رفت ہے۔
تقریب میں شریک مہمانوں کو لائیو فلائٹ ڈیمونسٹریشن دیکھنے کا موقع ملا، جبکہ ایک خصوصی نمائش کے ذریعے ڈرون کے مختلف سسٹمز اور تکنیکی پہلوؤں سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اس دوران ماہرین نے شرکاء کے سوالات کے جوابات دیے اور ٹیکنالوجی کے عملی استعمال پر تفصیلی بریفنگ دی۔
اس موقع پر متعدد اہم شخصیات بھی موجود تھیں، جن میں یونیورسٹی ملائشیا پرلس کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر زالیمان بن ساؤلی، یونی میپ ہولڈنگز کے چیئرمین داتو شعیفل حازیظی، اور دیگر سرکاری و نجی اداروں کے نمائندگان شامل تھے۔ اس کے علاوہ ایوی ایشن اور اکنامک ڈیولپمنٹ سے وابستہ حکام نے بھی شرکت کی، جو اس پروگرام کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
حکام کے مطابق یہ اقدام سیکیورٹی کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے اور اداروں کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا ہے۔ خاص طور پر سرحدی علاقوں اور حساس مقامات کی نگرانی میں ایسے ڈرونز اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید ڈرون ٹیکنالوجی نہ صرف جرائم کی روک تھام میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے بلکہ قدرتی آفات، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز اور ٹریفک مینجمنٹ جیسے شعبوں میں بھی مؤثر استعمال ممکن ہے۔
یہ پروگرام اس بات کا ثبوت ہے کہ ملائیشیا جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے اور سیکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے، جبکہ مختلف اداروں کے درمیان تعاون کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔

COMMENTS