پرلیس: محکمہ امیگریشن کی جانب سے کیے گئے ایک خصوصی آپریشن کے دوران پانچ غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ ایک اور شخص کی جانچ...
پرلیس: محکمہ امیگریشن کی جانب سے کیے گئے ایک خصوصی آپریشن کے دوران پانچ غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ ایک اور شخص کی جانچ پڑتال کی گئی۔ یہ کارروائی “اوپس کُتیپ” کے تحت صنعتی علاقے پادانگ بیسار میں انجام دی گئی۔
تفصیلات کے مطابق، جباتن امیگریشن ملائیشیا (جے آئی ایم) نگری پرلیس کی ٹیم نے 6 افراد کی جانچ کی، جن میں سے 5 افراد کو مختلف امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی پر حراست میں لے لیا گیا۔ تمام گرفتار شدگان کا تعلق بنگلہ دیش سے بتایا گیا ہے اور وہ مرد ہیں۔
حکام کے مطابق، گرفتار افراد پر امیگریشن ایکٹ 1959/63 اور امیگریشن ریگولیشنز 1963 کے تحت متعدد خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں ویزا کی مدت سے زائد قیام اور قانونی دستاویزات کا فقدان شامل ہے۔ ان خلاف ورزیوں کو ملائیشیا میں سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں جرمانہ، قید یا ملک بدری جیسی سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
محکمہ امیگریشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی ریاست میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد قانون کی عملداری کو یقینی بنانا اور غیر قانونی سرگرمیوں کا خاتمہ کرنا ہے۔ اس طرح کی کارروائیاں ملک بھر میں وقتاً فوقتاً کی جاتی ہیں تاکہ سرحدی اور داخلی سیکیورٹی کو مضبوط بنایا جا سکے۔
تمام گرفتار افراد کو مزید قانونی کارروائی کے لیے ڈیپو امیگریشن کانگر منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کے کیسز کی تفصیلی تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو انہیں قانونی تقاضوں کے مطابق سزا دی جائے گی اور ممکنہ طور پر ملک بدر بھی کیا جائے ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ ملائیشیا میں غیر قانونی تارکین وطن کا مسئلہ ایک اہم چیلنج بنا ہوا ہے، جس کے پیش نظر حکومت مختلف سطحوں پر اقدامات کر رہی ہے۔ خاص طور پر صنعتی اور سرحدی علاقوں میں ایسے افراد کی موجودگی کو روکنے کے لیے خصوصی آپریشنز کیے جا رہے ہیں۔
مزید برآں، حکام نے مقامی افراد اور کاروباری اداروں کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ غیر قانونی تارکین وطن کو ملازمت دینے یا پناہ فراہم کرنے سے گریز کریں، کیونکہ اس پر بھی سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح، عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ اداروں کو دیں۔
ماہرین کے مطابق، اس طرح کی کارروائیاں نہ صرف قانون کی عملداری کو مضبوط بناتی ہیں بلکہ مقامی لیبر مارکیٹ کے تحفظ اور قومی سلامتی کو بھی یقینی بناتی ہیں۔ تاہم، اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے جامع پالیسی اور بین الاقوامی تعاون بھی ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔

COMMENTS