پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) نے عالمی سطح پر جیٹ فیول کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث چین، ملائیشیا اور خلیجی ممالک کے لی...
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) نے عالمی سطح پر جیٹ فیول کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث چین، ملائیشیا اور خلیجی ممالک کے لیے اپنی متعدد پروازیں معطل کرنے اور دیگر میں کمی کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ قومی ایئرلائن کے مطابق یہ فیصلے بڑھتے ہوئے آپریشنل اخراجات کے پیش نظر کیے گئے ہیں۔
پی آئی اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بیجنگ کے لیے پروازیں 11 اپریل سے جبکہ کوالالمپور کے لیے 14 اپریل سے معطل کر دی جائیں گی۔ اسی طرح سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے علاوہ بیشتر خلیجی ممالک کے لیے پروازیں اپریل کے اختتام تک بند رہیں گی۔ تاہم متحدہ عرب امارات کے لیے ہفتہ وار پروازوں کی تعداد کم کر کے 16 کر دی گئی ہے۔
یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عالمی سطح پر جیٹ فیول کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق فی بیرل قیمت جو پہلے تقریباً 85 سے 90 ڈالر کے درمیان تھی، حالیہ ہفتوں میں بڑھ کر 150 سے 200 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجہ امریکہ، اسرائیل اور ایران جنگ کے باعث سپلائی میں خلل ہے، جس نے اہم سمندری راستوں خصوصاً آبنائے ہرمز کو متاثر کیا ہے۔
ایوی ایشن انڈسٹری میں ایندھن کے اخراجات کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، جو کسی بھی ایئرلائن کے کل آپریشنل خرچ کا بڑا حصہ ہوتے ہیں۔ پی آئی اے نے اعتراف کیا ہے کہ وہ بڑھتی ہوئی لاگت کا مکمل بوجھ مسافروں پر منتقل نہیں کر سکتی، جس کے باعث انتظامیہ کو "سخت فیصلے" کرنا پڑے۔
پروازوں میں کمی کے ساتھ ساتھ پی آئی اے نے مختلف مسافروں کو دی جانے والی رعایتی سہولیات بھی ختم کر دی ہیں۔ اس میں طلبہ، بزرگ شہریوں، صحافیوں، بینکاروں اور دیگر طبقات کے لیے دی جانے والی رعایتیں شامل تھیں۔ تاہم ایئرلائن کے مطابق بچوں اور شیر خوار مسافروں کے لیے رعایتیں برقرار رکھی جائیں گی۔
دوسری جانب مقامی ذرائع کے مطابق پاکستان میں جیٹ فیول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حالیہ اضافہ 40 روپے فی لیٹر تک ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد قیمت 517 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس صورتحال نے ایئرلائن کے مالی دباؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت پاکستان کے فضائی شعبے کی عالمی توانائی بحران کے سامنے کمزوری کو ظاہر کرتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی کشیدگی جاری ہے۔ ان حالات نے نہ صرف ایئرلائن آپریشنز کو متاثر کیا بلکہ سفری اخراجات میں اضافے اور بین الاقوامی روابط میں کمی کے خدشات بھی پیدا کر دیے ہیں۔
مزید برآں، پروازوں میں کمی سے مسافروں کو سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ کارگو سروسز اور تجارتی سرگرمیوں پر بھی اثر پڑنے کا امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ایندھن کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
پی آئی اے نے امید ظاہر کی ہے کہ آنے والے ہفتوں میں عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتیں مستحکم ہو جائیں گی، جس کے بعد معطل شدہ روٹس کو بحال کیا جا سکے گا۔ تاہم فی الحال ایئرلائن اپنے اخراجات کو کنٹرول کرنے اور مالی استحکام برقرار رکھنے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔

COMMENTS