میرو: پیراک میں منعقدہ “جوم ایکسچینج القرآن” پروگرام نے عوامی سطح پر غیر معمولی توجہ حاصل کر لی، جہاں شہریوں کو پرانے یا غیر تصدیق شدہ قرآنِ...
میرو: پیراک میں منعقدہ “جوم ایکسچینج القرآن” پروگرام نے عوامی سطح پر غیر معمولی توجہ حاصل کر لی، جہاں شہریوں کو پرانے یا غیر تصدیق شدہ قرآنِ مجید کے نسخے جمع کرا کے مستند اور منظور شدہ نئے نسخے حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔
یہ بابرکت سرگرمی “پروگرام مدانی رکیت (پی ایم آر) پیراک 2026” کے تحت وزارت داخلہ کے اسٹال پر منعقد کی گئی، جو پورے ایونٹ میں مرکزِ توجہ بنی رہی۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد قرآنِ مجید کے مستند نسخوں کی فراہمی کو یقینی بنانا اور غیر منظور شدہ یا خستہ حال نسخوں کو مناسب طریقے سے تبدیل کرنا ہے تاکہ کلامِ الٰہی کی حرمت اور حفاظت برقرار رہے۔
منتظمین کے مطابق، اس پروگرام کے ذریعے عوام کو ایسے قرآن فراہم کیے جا رہے ہیں جن پر وزارت داخلہ کی باضابطہ تصدیق موجود ہے۔ اس سے نہ صرف مذہبی اعتبار سے درست متن کی ترسیل ممکن ہو رہی ہے بلکہ قرآنی تعلیمات کے فروغ میں بھی مدد مل رہی ہے۔
پروگرام میں شریک افراد نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ نہایت مفید اور بروقت قدم ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو اپنے گھروں میں موجود پرانے نسخوں کو تبدیل کرنا چاہتے تھے مگر انہیں مناسب پلیٹ فارم دستیاب نہیں تھا۔
تقریب کو اس وقت مزید اہمیت حاصل ہوئی جب وزارت داخلہ کے نائب وزیر اور ڈپٹی سیکریٹری جنرل (سیکیورٹی) نے موقع پر شرکت کی۔ انہوں نے اسٹال کا دورہ کیا، عوام سے ملاقات کی اور اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرامز معاشرے میں دینی شعور کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا، “یہ صرف قرآن کی تبدیلی کا عمل نہیں بلکہ ایک اجتماعی کوشش ہے تاکہ لوگ قرآن کو پڑھیں، سمجھیں اور اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں، جو کہ مدانی ملائیشیا کے وژن کے عین مطابق ہے۔”
حکام کے مطابق، اس پروگرام کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اس کے ذریعے قرآنِ مجید کے احترام کے حوالے سے شعور اجاگر کیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے نسخوں کے حوالے سے جو وقت کے ساتھ خراب ہو جاتے ہیں یا جن کی اشاعت مستند نہیں ہوتی۔
ایونٹ میں مختلف عمر اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نوعیت کی سرگرمیاں نہ صرف مذہبی بلکہ سماجی سطح پر بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق، جدید دور میں جہاں معلومات تک رسائی آسان ہو گئی ہے، وہاں مستند دینی مواد کی فراہمی اور اس کی تصدیق مزید ضروری ہو گئی ہے۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے یہ اقدام ایک مثبت پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔
یہ پروگرام اس وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت ملائیشیا میں مذہبی اقدار، سماجی ہم آہنگی اور عوامی فلاح کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

COMMENTS