کوالا ترینگانو: ایک مقامی کھانے کے ہوٹل کے مالک کو غیر قانونی غیر ملکی ملازم رکھنے کے جرم میں سیشن کورٹ کوالا ترینگانو کی جانب سے 10 ہزار ر...
کوالا ترینگانو: ایک مقامی کھانے کے ہوٹل کے مالک کو غیر قانونی غیر ملکی ملازم رکھنے کے جرم میں سیشن کورٹ کوالا ترینگانو کی جانب سے 10 ہزار رنگٹ جرمانہ عائد کر دیا گیا۔
عدالت نے یہ سزا اس وقت سنائی جب ملزم محمد شہریل اظہار سلیمان، عمر 33 سال، نے اپنے خلاف عائد الزامات کا اعتراف کر لیا۔ کیس کی سماعت جج نازلیزا محمد نازری کے روبرو ہوئی، جنہوں نے جرم ثابت ہونے پر فوری طور پر سزا سنائی۔
استغاثہ کے مطابق ملزم نے ایک 51 سالہ تھائی شہری کو بطور ویٹر ملازمت دی، حالانکہ اس کے پاس کوئی قانونی ورک پرمٹ موجود نہیں تھا۔ یہ خلاف ورزی اس وقت سامنے آئی جب محکمہ امیگریشن نے 25 فروری کو رات 11 بجے کوالا نیروُس کے علاقے کمپنگ سیبرانگ تکیر میں واقع وارونگ سیری پنتائی تھائی فوڈ ریسٹورنٹ پر چھاپہ مارا۔
حکام کے مطابق کارروائی کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ غیر ملکی کارکن بغیر کسی قانونی دستاویز کے کام کر رہا تھا، جو کہ امیگریشن قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے اس جرم کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے جرمانہ عائد کیا تاکہ دیگر افراد کے لیے مثال قائم کی جا سکے۔
اسی عدالت میں ایک اور اہم پیشرفت میں دو تعمیراتی کمپنیوں کو بھی غیر قانونی غیر ملکی افراد کو اپنے منصوبوں میں رہائش دینے کے جرم میں مجموعی طور پر 35 ہزار رنگٹ جرمانہ کیا گیا۔ کمپنی پرمینٹیکس وریجیتو ریسورسز سندرن برہاد کو 20 ہزار رنگٹ جرمانہ کیا گیا کیونکہ اس نے چار انڈونیشین شہریوں کو بغیر دستاویزات کے بیسوت کے خصوصی تعلیمی اسکول کی تعمیراتی سائٹ پر رہنے کی اجازت دی۔
دوسری کمپنی، نورال ایمان سلوشن، کو 15 ہزار رنگٹ جرمانہ عائد کیا گیا، جس نے تین غیر ملکی افراد کو اسی تعمیراتی سائٹ پر بغیر قانونی پاس کے رہنے دیا تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسی خلاف ورزیوں پر سخت کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
یہ کیس ملائیشیا میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف جاری سخت پالیسیوں کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔ حکام مسلسل ایسے آجر حضرات کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں جو امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی افراد کو ملازمت یا رہائش فراہم کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کے اقدامات کا مقصد نہ صرف قانون کی عملداری کو یقینی بنانا ہے بلکہ مقامی لیبر مارکیٹ کو بھی منظم رکھنا ہے۔ حکومت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ غیر قانونی کارکنوں کو ملازمت دینے والوں کے خلاف کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
مزید برآں، امیگریشن حکام نے عوام اور کاروباری اداروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ صرف قانونی دستاویزات رکھنے والے افراد کو ہی ملازمت دیں، بصورت دیگر انہیں بھاری جرمانوں اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

COMMENTS