جارج ٹاؤن: ملائیشیا میں لیموزین ٹیکسی ڈرائیوروں کی آمدنی پر رون 95 پیٹرول سبسڈی اور ای ہیلنگ سروسز کے بڑھتے ہوئے مقابلے کے باعث منفی اثرات پ...
جارج ٹاؤن: ملائیشیا میں لیموزین ٹیکسی ڈرائیوروں کی آمدنی پر رون 95 پیٹرول سبسڈی اور ای ہیلنگ سروسز کے بڑھتے ہوئے مقابلے کے باعث منفی اثرات پڑ رہے ہیں، جس پر حکام نے متعلقہ وزارتوں تک معاملہ اٹھانے کا عندیہ دیا ہے۔
رکن پارلیمنٹ بیان بارو اور نائب وزیر سرمایہ کاری، تجارت و صنعت، سم تزے تزِن نے کہا کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور جلد ہی اسے وزارت ٹرانسپورٹ (ایم او ٹی) اور وزارت خزانہ (ایم او ایف) کے سامنے پیش کریں گے تاکہ کوئی مناسب حل نکالا جا سکے۔
انہوں نے یہ بات گزشتہ روز پینانگ انٹرنیشنل ایئرپورٹ لیموزین ٹیکسی ایسوسی ایشن (ایل اے ٹی پی پی) کی جانب سے منعقدہ عیدالفطر تقریب میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ٹیکسی ڈرائیوروں نے اپنی مشکلات اور خدشات براہ راست ان کے سامنے رکھے۔
سم تزے تزِن کے مطابق، ڈرائیوروں نے واضح طور پر بتایا کہ پیٹرول سبسڈی کے موجودہ نظام اور ای ہیلنگ سروسز جیسے متبادل ذرائع کی وجہ سے ان کی آمدنی میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ فوری توجہ کا متقاضی ہے کیونکہ اس سے متعلقہ افراد کے روزگار اور معاشی استحکام پر اثر پڑ رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا، “مجھے ان کا پیغام موصول ہو گیا ہے اور میں اسے متعلقہ وزارتوں تک پہنچاؤں گا تاکہ اس پر سنجیدہ غور کیا جا سکے۔”
اس کے ساتھ ساتھ، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پینانگ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیموزین ٹیکسی سروس کے موجودہ مقام کو مستقبل میں منتقل کیا جائے گا تاکہ ایئرپورٹ کی توسیعی منصوبہ بندی کے لیے جگہ فراہم کی جا سکے۔
سم تزے تزِن نے اس حوالے سے بتایا کہ ایئرپورٹ کی توسیع ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہے، جس کے تحت جدید ٹیکنالوجی “ریموٹ ڈیجیٹل ورچوئل ٹاور” (آر ڈی وی ڑی) متعارف کروائی جائے گی۔ یہ نظام ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا ہوگا اور اس کا مقصد فضائی ٹریفک کے انتظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ورک پیکیج ون (ڈبلیو پی 1) کے تحت مکمل کیا جا رہا ہے، جس پر 107 ملین رنگٹ سے زائد لاگت آئے گی، اور توقع ہے کہ یہ منصوبہ رواں ماہ کے اختتام تک مکمل ہو جائے گا۔
ماہرین کے مطابق، ای ہیلنگ سروسز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے روایتی ٹیکسی سروسز کے لیے مقابلہ سخت کر دیا ہے، جبکہ پیٹرول سبسڈی کے حوالے سے پالیسی تبدیلیوں نے بھی ان کے آپریشنل اخراجات کو متاثر کیا ہے۔
اس صورتحال میں لیموزین ٹیکسی ڈرائیوروں کا مطالبہ ہے کہ حکومت ان کے لیے خصوصی پالیسی یا ریلیف اقدامات متعارف کروائے تاکہ وہ موجودہ معاشی دباؤ کا مقابلہ کر سکیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر مختلف اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا، تاکہ تمام فریقین کے مفادات کو مدنظر رکھا جا سکے۔

COMMENTS