صباح کے علاقے کواموت سے رکن اسمبلی داتوک ماسیونگ باناہ نے ریاست میں غیر ملکیوں کی موجودگی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک حقیقت پسندانہ اور ع...
صباح کے علاقے کواموت سے رکن اسمبلی داتوک ماسیونگ باناہ نے ریاست میں غیر ملکیوں کی موجودگی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک حقیقت پسندانہ اور عملی حکمتِ عملی اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔
انہوں نے ریاستی اسمبلی میں گورنر کے پالیسی خطاب پر بحث کے دوران کہا کہ صباح میں غیر ملکیوں کی آمد کوئی نیا مسئلہ نہیں بلکہ گزشتہ 50 برسوں سے جاری ہے، جس کے باعث یہ ریاست ملائیشیا میں غیر شہری آبادی کے لحاظ سے سب سے آگے ہے۔
محکمہ شماریات ملائیشیا کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اگست 2025 تک صباح میں تقریباً 10 لاکھ 40 ہزار غیر ملکی موجود ہیں، جن میں اکثریت فلپائن اور انڈونیشیا سے تعلق رکھتی ہے۔ انہوں نے ان افراد کو چار بڑی اقسام میں تقسیم کیا، جن میں غیر قانونی تارکین وطن، جنگی پناہ گزین (آئی ایم ایم 13 کارڈ رکھنے والے)، بغیر شہریت بچے، اور وہ افراد شامل ہیں جنہوں نے مشکوک طریقوں سے شناختی کارڈ حاصل کیے۔
ماسیونگ باناہ نے وفاقی حکومت کی اس تجویز کی حمایت کی کہ جنگی پناہ گزینوں اور بغیر شہریت بچوں کو دستاویزات جاری کیے جائیں تاکہ انہیں قانونی حیثیت مل سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان افراد کو باقاعدہ دستاویزات فراہم کی جائیں تو وہ قانونی طور پر کام کر سکیں گے، جس سے ان کی معاشی حالت بہتر ہوگی اور ریاستی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مناسب دستاویزات کی فراہمی سے جرائم میں بھی کمی آسکتی ہے، کیونکہ معاشی مشکلات اکثر چھوٹے اور بڑے جرائم کا سبب بنتی ہیں۔ ان کے مطابق اگر تمام غیر ملکی کارکنان کو ایک ساتھ واپس بھیج دیا جائے تو زراعت، تعمیرات، شجرکاری، ہوٹلنگ اور ریستوران جیسے اہم شعبے شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔
ماسیونگ نے مسئلے کے حل کے لیے چند اہم تجاویز بھی پیش کیں، جن میں سرحدی سکیورٹی کو مضبوط بنانا، خاص طور پر تاواو، سمپورنا، سانداکان اور لاہاد داتو جیسے علاقوں میں سمندری راستوں کی نگرانی بڑھانا شامل ہے۔ انہوں نے ریڈار، گشتی کشتیوں اور ڈرونز کے استعمال پر بھی زور دیا۔
انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی دیانت داری کو بھی اہم قرار دیا اور کہا کہ اسمگلرز اکثر اہلکاروں کو رشوت دے کر اپنے مقاصد حاصل کرتے ہیں، اس لیے نگرانی کا نظام مزید مضبوط ہونا چاہیے۔
مزید تجاویز میں غیر قانونی تارکین وطن کے فنگر پرنٹس لازمی لینا، غیر ملکی کارکنوں کی تنخواہیں بینک کے ذریعے ادا کرنا، اور مشترکہ نفاذی کارروائیوں میں اضافہ شامل ہے تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ غیر قانونی آبادیاں (کچی بستیاں)، جرائم، اور بجلی و پانی کی چوری جیسے مسائل بھی غیر قانونی غیر ملکیوں کی موجودگی سے جڑے ہوئے ہیں، جس سے حکومت کو مالی نقصان ہوتا ہے۔
انہوں نے ریاستی اور وفاقی حکومت کے درمیان بہتر تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ اس پیچیدہ مسئلے کا مؤثر حل نکالا جا سکے۔
ماسیونگ نے ملائیشیا معاہدہ 1963 (ایم اے 63) کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ عوام میں یہ تاثر غلط ہے کہ موجودہ حکومت نے کوئی پیش رفت نہیں کی۔ ان کے مطابق 13 میں سے 9 نکات پر پیش رفت ہو چکی ہے، جبکہ صباح کے لیے خصوصی گرانٹ میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو 2022 تک تقریباً 25 ملین رنگٹ سالانہ تھی، اور اب 2026 میں 600 ملین رنگٹ تک پہنچ چکی ہے۔
تاہم، انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ صباح کی اصل خواہش 40 فیصد ریونیو حصہ ہے، جس کے لیے مزید مذاکرات کی ضرورت ہے۔

COMMENTS