کوچنگ: ملائیشیا کی ریاست سراواک میں بیرونی ٹیلنٹ کو مزید مواقع دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ معیشت کو مستحکم بنایا جا سکے اور افرادی ...
کوچنگ: ملائیشیا کی ریاست سراواک میں بیرونی ٹیلنٹ کو مزید مواقع دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ معیشت کو مستحکم بنایا جا سکے اور افرادی قوت کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔
ایک تجزیاتی کالم میں لکھا گیا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک ہنر مند افراد کو اپنی معیشت کا حصہ بنانے کے لیے پالیسیاں نرم کر رہے ہیں، جبکہ ملائیشیا میں بھی ایسے ماہرین کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔ تاہم، سراواک کی امیگریشن پالیسی نسبتاً زیادہ سخت سمجھی جاتی ہے، جو بیرونی افراد کے لیے وہاں کام اور رہائش کو محدود بناتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ملائیشیا کو خاص طور پر اعلیٰ مہارت کے حامل افراد کی ضرورت ہے، جو تحقیق، تعلیم، طب اور دیگر تکنیکی شعبوں میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے باوجود، بعض شعبوں میں خالی اسامیاں مسلسل موجود ہیں کیونکہ مطلوبہ مہارت رکھنے والے افراد دستیاب نہیں ہوتے یا وہ سراواک میں کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
کالم میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ سراواک کے شہری باآسانی کوالالمپور اور جوہر بہرو جیسے شہروں میں جا کر کام کر سکتے ہیں، جہاں وہ معیشت میں مثبت کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم، اس کے برعکس دیگر ریاستوں کے افراد کے لیے سراواک میں جا کر کام کرنا نسبتاً مشکل ہے، جس سے افرادی قوت کے تبادلے میں توازن پیدا نہیں ہو پاتا۔
مزید کہا گیا ہے کہ سراواک حکومت کے بڑے معاشی منصوبوں کو کامیاب بنانے کے لیے مقامی اور بیرونی دونوں طرح کے ماہرین کی ضرورت ہے۔ اگر بیرونی ٹیلنٹ کو مناسب مواقع نہ دیے گئے تو یہ منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں، خصوصاً ایسے شعبوں میں جہاں مہارت یافتہ افرادی قوت کی کمی ہے۔
کالم میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ تعلیمی اور تکنیکی اداروں میں اساتذہ اور ماہرین کی کمی ایک سنجیدہ مسئلہ بن سکتی ہے، اگر بیرونی افراد کو شامل کرنے کے لیے پالیسیاں مزید لچکدار نہ بنائی گئیں۔
مزید برآں، بعض حلقوں کی جانب سے بیرونی افراد کو زیادہ مواقع دینے کی مخالفت بھی سامنے آئی ہے، جہاں خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ اس سے ریاستی خودمختاری متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم، تجزیہ نگار کے مطابق ایسی آراء ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں، اور متوازن پالیسی اختیار کرنا ضروری ہے۔
یہ بھی کہا گیا کہ دنیا بھر میں ممالک ہنر مند افراد کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، اور ملائیشیا کو بھی اس رجحان کے مطابق اپنی پالیسیوں میں بہتری لانا ہوگی تاکہ عالمی سطح پر مسابقت برقرار رکھی جا سکے۔

COMMENTS