کوالالمپور: ملائیشیا کے علاقے سیپانگ میں قائم ایک بڑی دستانہ ساز فیکٹری کی بندش کے بعد مجموعی طور پر 1,426 ملازمین اپنی ملازمتوں سے محروم ہو...
کوالالمپور: ملائیشیا کے علاقے سیپانگ میں قائم ایک بڑی دستانہ ساز فیکٹری کی بندش کے بعد مجموعی طور پر 1,426 ملازمین اپنی ملازمتوں سے محروم ہو گئے ہیں، جن میں 304 مقامی ملائیشین شہری جبکہ باقی غیر ملکی کارکن تھے۔
اطلاعات کے مطابق، کمپنی ڈبلیو آر پی ایشیا پیسیفک سندرن برہاد نے 15 اپریل 2026 سے ملازمین کو برطرفی کے نوٹس جاری کیے۔ اس پیش رفت کی تصدیق وزارت انسانی وسائل کی جانب سے کی گئی، جس نے معاملے کی نگرانی اور جانچ پڑتال بھی کی۔
حکام کا کہنا ہے کہ جزیرہ نما ملائیشیا کے محکمہ محنت اس فیکٹری کی بندش کے عمل پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔ 17 اپریل کو جے ٹی کے ایس ایم نے لیکویڈیٹر، سوشل سکیورٹی آرگنائزیشن اور پولیس کے ساتھ ایک اجلاس بھی منعقد کیا تاکہ ملازمین کے واجبات اور دیگر امور کو منظم طریقے سے نمٹایا جا سکے۔
وزارت کے مطابق مارچ 2026 کی تنخواہیں ادا کر دی گئی ہیں، جبکہ اپریل کی ادائیگیوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ کمپنی کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ غیر ملکی کارکنوں کے لیے خوراک اور رہائش کی سہولیات اس وقت تک برقرار رکھی جائیں گی جب تک ان کی منتقلی مکمل نہیں ہو جاتی۔
مزید بتایا گیا ہے کہ کچھ مقامی ملازمین کو عارضی طور پر برقرار رکھا جائے گا تاکہ وہ اثاثوں کی دیکھ بھال، مالی امور اور دستاویزات کی منتقلی جیسے کام مکمل کر سکیں۔ وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ تمام برطرفی فوائد اور واجبات قانونی طریقہ کار کے تحت ادا کیے جائیں گے۔
یہ کمپنی 1985 میں ویمبلے ربر پراڈکٹس سندرن برہاد کے نام سے قائم ہوئی تھی اور گزشتہ 30 برسوں سے عالمی سطح پر سرجیکل اور صنعتی دستانے بنانے والی نمایاں کمپنیوں میں شمار ہوتی رہی ہے۔
حکام کے مطابق فیکٹری کی بندش کی بڑی وجوہات میں خام مال کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی سپلائی چین میں خلل شامل ہیں، جو حالیہ جغرافیائی کشیدگی کے باعث مزید متاثر ہوئے۔ ان عوامل نے کمپنی کو اپنے آپریشنز مرحلہ وار بند کرنے پر مجبور کیا۔
وزارت انسانی وسائل نے یقین دہانی کرائی ہے کہ متاثرہ ملازمین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا اور تمام دعوؤں کو مناسب قانونی طریقہ کار کے تحت حل کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ متعلقہ ادارے اس بات کو بھی یقینی بنا رہے ہیں کہ عمل مکمل طور پر شفاف اور منظم انداز میں انجام پائے۔

COMMENTS