سنگاپور کی وزارتِ افرادی قوت نے غیر ملکی کارکنوں کی فلاح و بہبود اور سماجی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے دو بڑے تفریحی مراکز کو جدید خطوط پر تر...
سنگاپور کی وزارتِ افرادی قوت نے غیر ملکی کارکنوں کی فلاح و بہبود اور سماجی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے دو بڑے تفریحی مراکز کو جدید خطوط پر ترقی دینے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد کارکنوں کو بہتر سہولیات، کمیونٹی سپورٹ اور آرام دہ ماحول فراہم کرنا ہے۔
حکام کے مطابق اس منصوبے کے تحت سون لی ریکریشن سینٹر کو مکمل طور پر نئے انداز میں ایک بڑے “ریکریشن ہب” میں تبدیل کیا جائے گا، جبکہ کاکی بکیت ریکریشن سینٹر کو بھی اپ گریڈ کیا جائے گا۔ دونوں منصوبوں کے لیے مشاورتی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔
سون لی ریکریشن سینٹر اس وقت سنگاپور کا سب سے بڑا تفریحی مرکز ہے، جہاں 40,000 سے زائد کارکن مستفید ہوتے ہیں۔ منصوبے کے مطابق اس مرکز کو مزید وسعت دی جائے گی اور اس کا قابلِ استعمال رقبہ تقریباً دوگنا کیا جائے گا، جس کے بعد یہ 100,000 سے زائد کارکنوں کو سہولت فراہم کر سکے گا۔ اس منصوبے کی تکمیل 2030 تک متوقع ہے۔
وزارت کے مطابق نئے ریکریشن ہب ماڈل میں صرف کھیلوں اور تفریح تک محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ اسے ایک کثیر المقاصد مرکز بنایا جائے گا۔ اس میں طبی سہولیات، تعلیمی مواقع، کمیونٹی سرگرمیاں اور سرکاری خدمات تک رسائی بھی شامل ہوگی تاکہ کارکن ایک ہی جگہ پر مختلف سہولیات سے فائدہ اٹھا سکیں۔
حکام نے بتایا کہ اپ گریڈ کیے گئے سون لی مرکز میں موسم سے محفوظ کھیلوں کے میدان، کھانے پینے کے مراکز، ریٹیل آؤٹ لیٹس، میڈیکل سینٹر اور کمیونٹی تنظیموں کے لیے مخصوص جگہیں شامل ہوں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے لچکدار حصے بھی بنائے جائیں گے جنہیں ہنگامی صورتحال میں طبی یا ویکسینیشن مراکز میں تبدیل کیا جا سکے۔
دوسری جانب کاکی بکیت ریکریشن سینٹر، جو سنگاپور کے مشرقی علاقے میں کارکنوں کو سہولت فراہم کرتا ہے، کو بھی جدید سہولیات سے آراستہ کیا جائے گا۔ اس مرکز کی گنجائش بڑھا کر 20,000 سے زائد کارکنوں تک کر دی جائے گی اور یہاں بہتر کھیلوں کی سہولیات کے ساتھ ساتھ کھانے اور خریداری کے مزید مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
وزارتِ افرادی قوت کے وزیر مملکت دینیش واسو دیش نے کہا کہ یہ منصوبے روایتی تفریحی مراکز سے آگے بڑھ کر ایک مکمل کمیونٹی ماحول فراہم کریں گے۔ ان کے مطابق، “ہم چاہتے ہیں کہ ہر کارکن ان مراکز میں اپنے لیے ایک گھر جیسا ماحول محسوس کرے جہاں وہ آرام، میل جول اور ضروری سہولیات حاصل کر سکے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ان مراکز کو اس طرح ڈیزائن کیا جائے گا کہ وہ نہ صرف تفریح بلکہ سماجی رابطے اور کمیونٹی کی مضبوطی میں بھی کردار ادا کریں۔ یہ منصوبے حالیہ عالمی صحت کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیے جا رہے ہیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بہتر طور پر نمٹا جا سکے۔
حکام کے مطابق یہ منصوبہ دو مراحل پر مشتمل ہوگا۔ پہلے مرحلے میں دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں سے درخواستیں طلب کی جائیں گی، جبکہ دوسرے مرحلے میں منتخب اداروں سے تفصیلی ڈیزائن پیش کرنے کو کہا جائے گا۔ بعد ازاں حتمی کنسلٹنٹس کا انتخاب کیا جائے گا جو منصوبے کی تکمیل تک نگرانی کریں گے۔
یہ اقدام سنگاپور کی جانب سے غیر ملکی کارکنوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان مراکز کے ذریعے نہ صرف تفریح بلکہ سماجی ہم آہنگی اور کارکنوں کی ذہنی و جسمانی صحت کو بھی فروغ دیا جائے گا۔

COMMENTS