اسکندر پتری: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے ایک 49 سالہ جنوبی کوریا کے شہری کو جعلی ایمپلائمنٹ پاس استعمال کرنے کے شبہ میں گرفتار کر لیا، جبک...
اسکندر پتری: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے ایک 49 سالہ جنوبی کوریا کے شہری کو جعلی ایمپلائمنٹ پاس استعمال کرنے کے شبہ میں گرفتار کر لیا، جبکہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ وہ اپنے ملک میں ایک بڑے مالیاتی فراڈ کیس میں مطلوب ہے۔
جوہر کے امیگریشن ڈائریکٹر داتوک محمد رسدی محمد داروس کے مطابق ملزم کو ہورائزن ہلز میں واقع اس کے کرائے کے گھر پر کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ شخص پر جنوبی کوریا میں تقریباً 3.5 بلین وون (تقریباً 9.4 ملین رنگٹ) کے فراڈ میں ملوث ہونے کا الزام ہے، جس کے باعث وہ اپنے ملک میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جب امیگریشن حکام نے گھر پر چھاپہ مارا تو ملزم اپنی 45 سالہ چینی نژاد بیوی اور دو بیٹوں کے ساتھ موجود تھا، جبکہ ایک 55 سالہ فلپائنی خاتون گھر کے باہر صفائی کا کام کر رہی تھی۔ حکام کے مطابق کارروائی کے دوران ملزم درست شناختی دستاویزات پیش کرنے میں ناکام رہا۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق جنوبی کوریا کا شہری گزشتہ چار ماہ سے ملائیشیا میں مقیم تھا، جبکہ مذکورہ فلپائنی خاتون تقریباً ایک سال سے زائد عرصے سے ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم پائی گئی۔ امیگریشن حکام نے دونوں افراد کو امیگریشن ایکٹ 1959/63 کے سیکشن 15(1)(سی) کے تحت حراست میں لے کر 14 روزہ ریمانڈ پر بھیج دیا ہے تاکہ مزید تحقیقات مکمل کی جا سکیں۔
حکام نے مزید بتایا کہ ملزم کے دونوں بیٹے، جن کی عمریں 12 اور 20 سال ہیں، قانونی طور پر ملائیشیا میں مقیم ہیں اور وہ سوشل وزٹ پاس اور اسٹوڈنٹ پاس کے تحت رہ رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خاندان کے کچھ افراد کے پاس درست دستاویزات موجود تھیں، تاہم مرکزی ملزم کے خلاف سنگین قانونی خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملائیشیا میں غیر قانونی تارکین وطن اور جعلی دستاویزات کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ امیگریشن حکام ملک بھر میں مختلف آپریشنز کے ذریعے ایسے افراد کی نشاندہی اور گرفتاری عمل میں لا رہے ہیں جو امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
داتوک محمد رسدی محمد داروس نے اپنے بیان میں کہا کہ محکمہ امیگریشن کسی بھی فرد کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھتا اور جعلی دستاویزات کے استعمال یا غیر قانونی قیام کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ ملک کی سیکیورٹی اور قانونی نظام کو مضبوط بنایا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے کیسز نہ صرف امیگریشن نظام بلکہ قومی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں، اس لیے دستاویزات کی تصدیق کے عمل کو مزید سخت اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ حکام اس حوالے سے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی غور کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

COMMENTS