پاسر ماس: عدالت نے سوشل وزٹ پاس کے غلط استعمال پر تین تھائی خواتین کو جرمانے کی سزا سنا دی، جہاں ان خواتین نے سیاحتی ویزے پر آکر غیر قانونی ...
پاسر ماس: عدالت نے سوشل وزٹ پاس کے غلط استعمال پر تین تھائی خواتین کو جرمانے کی سزا سنا دی، جہاں ان خواتین نے سیاحتی ویزے پر آکر غیر قانونی طور پر کام کرنے کا اعتراف کیا۔
عدالتی تفصیلات کے مطابق، تینوں خواتین جن کی عمریں 20، 26 اور 29 سال بتائی گئی ہیں، نے سیشن کورٹ میں اپنے خلاف عائد الزامات کو تسلیم کر لیا۔ مقدمہ جج ذوالکفلی عبداللہ کے سامنے پیش ہوا، جہاں دو خواتین کو مشترکہ جبکہ ایک کو علیحدہ طور پر چارج کیا گیا۔
عدالت نے ہر خاتون پر 1,000 رنگٹ (تقریباً 210 امریکی ڈالر) جرمانہ عائد کیا، جبکہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ایک ماہ قید کی سزا بھی سنائی گئی۔ یہ کارروائی ملائیشین امیگریشن قوانین کے تحت کی گئی، خاص طور پر امیگریشن ریگولیشن 39(بی) کے مطابق، جو سوشل وزٹ پاس کے غلط استعمال کو جرم قرار دیتا ہے۔
استغاثہ کی نمائندگی ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر سیتی خدیجہ خیرالدین نے کی، جبکہ تینوں ملزمان عدالت میں بغیر وکیل کے پیش ہوئیں۔ عدالت نے اعتراف جرم کے بعد مختصر سماعت کے دوران ہی فیصلہ سنا دیا۔
تحقیقات کے مطابق، ان خواتین کو 29 مارچ کو کوتا بھارو کے علاقے پانجی میں ایک فوڈ اسٹال پر کیے گئے آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا، جہاں وہ مبینہ طور پر کام کر رہی تھیں۔ یہ کارروائی امیگریشن حکام کی جانب سے غیر قانونی ملازمتوں کے خلاف جاری مہم کا حصہ تھی۔
ملائیشیا میں سوشل وزٹ پاس عام طور پر سیاحت یا قلیل مدتی قیام کے لیے جاری کیا جاتا ہے، تاہم اس کے تحت کسی بھی قسم کی ملازمت یا کاروباری سرگرمی کی اجازت نہیں ہوتی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے کیسز نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہیں بلکہ مقامی لیبر مارکیٹ پر بھی منفی اثر ڈالتے ہیں۔
حکام کے مطابق، حالیہ مہینوں میں غیر ملکی شہریوں کی جانب سے ویزا شرائط کی خلاف ورزی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے باعث امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے ملک بھر میں نگرانی اور کارروائیوں کو مزید سخت کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں فوڈ انڈسٹری، تعمیراتی شعبہ اور چھوٹے کاروبار خاص طور پر زیر نگرانی ہیں۔
مزید برآں، حکام نے کاروباری مالکان کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ غیر قانونی تارکین وطن کو ملازمت دینے سے گریز کریں، بصورت دیگر ان کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے، جس میں بھاری جرمانے اور لائسنس کی منسوخی شامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات حکومت کی جانب سے غیر قانونی امیگریشن پر قابو پانے اور مقامی کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اہم ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع متعلقہ حکام کو دیں تاکہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔

COMMENTS