اسلام آباد: بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کی جانب سے مارچ 2026 کے لیے اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی گ...
اسلام آباد: بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کی جانب سے مارچ 2026 کے لیے اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی گئی، جس میں بیرون ملک ملازمتوں کے لیے رجسٹریشنز کے حوالے سے ٹاپ 10 کمپنیوں کی فہرست سامنے آگئی ہے۔
جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، کے ایم اے انٹرنیشنل اوورسیز ایمپلائمنٹ نے سب سے زیادہ 546 رجسٹریشنز کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی۔ اس کے بعد ڈیسکون انجینئرنگ لمیٹڈ نے 480 رجسٹریشنز کے ساتھ دوسری جبکہ یونین مین پاور سروسز نے 366 رجسٹریشنز کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ کمپنیاں بیرون ملک روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں اور ان کی کارکردگی دیگر اداروں کے مقابلے میں بہتر رہی ہے۔ یہ اعداد و شمار ملک میں بڑھتی ہوئی بیرون ملک روزگار کی طلب اور رجحان کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔
ٹاپ تھری کے بعد دیگر نمایاں کمپنیوں میں الائیڈ سروسز انٹرنیشنل لمیٹڈ چوتھے نمبر پر رہی جس نے 344 رجسٹریشنز مکمل کیں، جبکہ جے ایم ایس ایچ آر کنسلٹنٹس نے 343 رجسٹریشنز کے ساتھ پانچویں پوزیشن حاصل کی۔ اسی طرح گلف اوورسیز ٹیکنیکل سروسز 278 رجسٹریشنز کے ساتھ چھٹے نمبر پر رہی۔
ساتویں نمبر پر لونا کارپوریشن رہی جس نے 269 رجسٹریشنز کیں، جبکہ آٹھویں نمبر پر ایس اے زیڈ یو یونیورسل لنک نے 162 رجسٹریشنز کے ساتھ جگہ بنائی۔ دہلوی مین پاور ریکروٹنگ نے 154 رجسٹریشنز کے ساتھ نویں اور گلف جابز ہنٹس مین پاور سروسز نے 152 رجسٹریشنز کے ساتھ دسویں پوزیشن حاصل کی۔
بیورو آف امیگریشن کے مطابق، یہ رپورٹ مختلف کمپنیوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے جاری کی جاتی ہے تاکہ بیرون ملک روزگار کے خواہشمند افراد مستند اور فعال اداروں کا انتخاب کر سکیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اوورسیز ایمپلائمنٹ سیکٹر پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانی زرمبادلہ کی صورت میں ملک کو بڑا فائدہ پہنچاتے ہیں۔ اسی لیے ایسے اداروں کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی ضروری ہے۔
مزید برآں، رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ رجسٹرڈ اور لائسنس یافتہ کمپنیوں کے ذریعے بیرون ملک ملازمت حاصل کرنا زیادہ محفوظ اور قانونی طریقہ ہے، جس سے دھوکہ دہی کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، حالیہ برسوں میں خلیجی ممالک سمیت مختلف خطوں میں پاکستانی افرادی قوت کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بیرون ملک ملازمت کے لیے صرف مستند اور رجسٹرڈ ایجنسیوں سے رجوع کریں اور کسی بھی غیر قانونی یا مشکوک پیشکش سے گریز کریں۔


COMMENTS