اسلام آباد: 7 اور 8 اپریل کو پاکستان ٹریول مارٹ 2026 کے دوران پاکستان میں قائم ویتنام ایمبیسی نے ویتنام کی سیاحت اور تجارتی مواقع کو فروغ د...
اسلام آباد: 7 اور 8 اپریل کو پاکستان ٹریول مارٹ 2026 کے دوران پاکستان میں قائم ویتنام ایمبیسی نے ویتنام کی سیاحت اور تجارتی مواقع کو فروغ دینے کے لیے فعال شرکت کی۔ یہ بین الاقوامی سیاحتی نمائش اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس میں تقریباً 250 مقامی و بین الاقوامی کمپنیوں، سفارتی مشنز اور سیاحتی اداروں نے حصہ لیا۔
یہ نمائش پاکستان کی بڑی سیاحتی سرگرمیوں میں شمار کی جاتی ہے، جہاں ٹریول ایجنسیاں، ایئر لائنز، سرمایہ کار اور پالیسی ساز ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوتے ہیں۔ اس موقع پر ویتنامی سفارت خانے نے ایک خصوصی اسٹال قائم کیا، جہاں پاکستان کے کاروباری افراد اور عوام کو ویتنام کے مختلف سیاحتی مواقع سے آگاہ کیا گیا۔
نمائش کے دوران ویتنام نے اپنی تین بڑی سیاحتی کیٹیگریز کو نمایاں کیا، جن میں ثقافتی و تاریخی مقامات، ساحلی و ریزورٹ سیاحت، اور کاروباری و سرمایہ کاری سیاحت شامل ہیں۔ تاریخی و ثقافتی مقامات میں ہا لونگ بے، ہوئی این اور ہوئی جیسے مقامات پیش کیے گئے، جبکہ ساحلی سیاحت کے لیے فو کیوک، دا نینگ اور نہا ترینگ کو اجاگر کیا گیا۔
اسی طرح کاروباری و سرمایہ کاری سیاحت کے لیے ہنوئی اور ہو چی منہ سٹی کو اہم مراکز کے طور پر پیش کیا گیا، جہاں بین الاقوامی سرمایہ کاری اور کانفرنسز کے مواقع موجود ہیں۔
دو روزہ نمائش کے دوران ویتنامی حکام نے پاکستانی ٹریول ایجنٹس، ایئر لائنز، ہوٹل گروپس اور سرمایہ کاروں کے ساتھ متعدد دوطرفہ ملاقاتیں بھی کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد مستقبل میں مشترکہ منصوبوں، تعاون اور ممکنہ معاہدوں (ایم او یو) کی راہ ہموار کرنا تھا۔
اس کے علاوہ سفارتی نمائندوں نے ایک بین الاقوامی پالیسی ورکشاپ میں بھی شرکت کی، جہاں ویزا سہولت، سفری قوانین اور سیکیورٹی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر ویتنام نے اپنے ای-ویزا سسٹم اور کھلی ویزا پالیسی کے تجربات بھی شیئر کیے، جسے شرکاء نے سراہا۔
نمائش میں شریک پاکستانی کمپنیوں اور کاروباری افراد نے ویتنام کی سیاحتی صلاحیت اور پرکشش ماحول کو مثبت انداز میں دیکھا۔ ساتھ ہی انہوں نے ویتنام سے درخواست کی کہ پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا پالیسی کو مزید آسان اور طویل المدت بنایا جائے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازوں کے آغاز اور تجارتی تعاون بڑھانے کی خواہش بھی ظاہر کی گئی۔
تقریباً 25 کروڑ آبادی کے حامل پاکستان کو ویتنام کے لیے ایک بڑی ممکنہ مارکیٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان ترجیحی تجارتی معاہدے پر جاری بات چیت بھی اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق، اس طرح کی بین الاقوامی نمائشوں میں شرکت نہ صرف سیاحت کو فروغ دیتی ہے بلکہ ممالک کے درمیان اقتصادی و سفارتی تعلقات کو بھی مضبوط بناتی ہے۔

COMMENTS