کوالالمپور: ملائیشیا کی حکومت نے ملک میں متوسط یا درمیانی ماہانہ تنخواہ کو سال 2030 تک بڑھا کر 3,500 رنگٹ تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس...
کوالالمپور: ملائیشیا کی حکومت نے ملک میں متوسط یا درمیانی ماہانہ تنخواہ کو سال 2030 تک بڑھا کر 3,500 رنگٹ تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت یہ بھی چاہتی ہے کہ کارکنوں کو دی جانے والی مجموعی اجرت اور مراعات، جسے “پمپاسن پیکرجا” یا ورکر کمپنسیشن کہا جاتا ہے، ملک کی مجموعی قومی پیداوار کے 40 فیصد تک پہنچ جائے۔
یہ ہدف حکومت کی طویل مدتی اقتصادی منصوبہ بندی کا حصہ ہے، جس کا مقصد کارکنوں کی آمدنی میں اضافہ، معیارِ زندگی بہتر بنانا اور ملکی معیشت میں اجرت کے تناسب کو مضبوط کرنا ہے۔ اس وقت ملائیشیا میں اجرتوں اور پیداواری صلاحیت کے درمیان توازن ایک اہم معاشی موضوع سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب زندگی گزارنے کی لاگت میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
حکومتی معاشی منصوبوں کے مطابق، درمیانی تنخواہ میں اضافہ صرف سرکاری شعبے تک محدود نہیں ہوگا بلکہ نجی شعبے، ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ، خدمات اور ہائی ویلیو انڈسٹریز میں بھی بہتر تنخواہوں کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دی جائے گی۔ ماہرین کے مطابق، اگر معیشت زیادہ مہارت والے شعبوں کی طرف منتقل ہوتی ہے تو اس سے ملازمین کی آمدنی میں قدرتی طور پر اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔
“پمپاسن پیکرجا” سے مراد وہ مجموعی رقم ہے جو ملازمین کو تنخواہ، بونس، الاؤنسز اور دیگر مالی فوائد کی صورت میں دی جاتی ہے۔ حکومت کا 40 فیصد جی ڈی پی کا ہدف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قومی معیشت میں کارکنوں کا حصہ بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ اقتصادی ترقی کے فوائد زیادہ متوازن انداز میں تقسیم ہوں۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق، ملائیشیا کی معیشت گزشتہ چند برسوں میں صنعتی اور ڈیجیٹل تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ ایسے میں حکومت کی کوشش ہے کہ ملک کم اجرت والی معیشت سے نکل کر زیادہ مہارت اور زیادہ آمدنی والی معیشت کی طرف بڑھے۔ اسی مقصد کے تحت ٹیکنیکل تربیت، ڈیجیٹل مہارتوں اور جدید صنعتوں میں سرمایہ کاری پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف تنخواہوں میں اضافہ کافی نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے پیداواری صلاحیت میں بہتری، مقامی صنعتوں کی مضبوطی اور ہنر مند افرادی قوت کی تیاری بھی ضروری ہوگی۔ اگر کاروباری اداروں کی پیداوار اور منافع میں اضافہ ہوتا ہے تو وہ کارکنوں کو بہتر اجرت دینے کی پوزیشن میں آ سکتے ہیں۔
حکومت اس حوالے سے مختلف اصلاحاتی پروگراموں پر بھی کام کر رہی ہے جن میں لیبر مارکیٹ کی بہتری، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع اور خواتین کی ورک فورس میں شمولیت بڑھانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ حکام کا ماننا ہے کہ ان اقدامات سے ملک کی مجموعی اقتصادی ترقی کو بھی تقویت ملے گی۔
معاشی ماہرین کے مطابق، 2030 تک مقررہ اہداف حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا، تاہم اگر سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور انسانی وسائل کی تربیت پر مستقل توجہ جاری رہی تو ملائیشیا خطے کی مضبوط ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شامل رہ سکتا ہے۔

COMMENTS