کیمامن: ملائیشیا کی ریاست ترینگانو کے ضلع کیمامن میں غیر قانونی لوہے کی کانوں کے مالکان پر شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ اپنے ہاں کام کرنے والے ...
کیمامن: ملائیشیا کی ریاست ترینگانو کے ضلع کیمامن میں غیر قانونی لوہے کی کانوں کے مالکان پر شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ اپنے ہاں کام کرنے والے غیر قانونی تارکین وطن کو قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچانے کیلئے خفیہ نگرانی کا نظام استعمال کر رہے تھے۔
محکمہ امیگریشن ملائیشیا ترینگانو کے ڈائریکٹر محمد یسری محمد نور کے مطابق غیر قانونی کان کنی کرنے والے آپریٹرز نے کانوں اور مزدوروں کی رہائش گاہوں کے قریب سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے تھے تاکہ امیگریشن حکام کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی انٹیلی جنس معلومات سے پتا چلا کہ غیر قانونی تارکین وطن کیلئے بنائے گئے رہائشی کیمپ جنگلاتی علاقے میں مختلف مقامات پر پھیلے ہوئے تھے، جو غیر قانونی لوہے کی کانوں کے قریب واقع تھے۔
محمد یسری کے مطابق حکام نے پہلے ہی کم از کم پانچ غیر قانونی لوہے کی کانوں کی نشاندہی کی تھی جو کیمپونگ سری باندی اور ہولو چکائی کے قریب پام آئل کے باغات میں خفیہ طور پر کام کر رہی تھیں۔ تاہم گزشتہ ہفتے جب امیگریشن حکام نے کارروائی کی تو انہیں شبہ ہوا کہ کان چلانے والوں کو پہلے ہی چھاپے کی اطلاع مل چکی تھی، کیونکہ کان کنی کے مقامات اور رہائش گاہوں کو فوری طور پر خالی کر دیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ کارروائی انتہائی دشوار تھی کیونکہ ان علاقوں تک پہنچنے کیلئے صرف پک اپ گاڑیوں کا استعمال ممکن تھا۔ حکام کو مرکزی سڑک سے تقریباً 30 منٹ تک دشوار گزار پہاڑی راستوں سے گزرنا پڑا۔
محکمہ امیگریشن کے مطابق راستے میں ایک حفاظتی چوکی بھی موجود تھی جہاں سی سی ٹی وی کیمرے اور لوہے کی رکاوٹیں نصب تھیں۔ افسران کو آگے بڑھنے کیلئے بند گیٹ کے تالے کاٹنے پڑے تاکہ کارروائی جاری رکھی جا سکے۔
محمد یسری نے بتایا کہ جب ٹیم صبح تقریباً 3 بجے مطلوبہ مقام پر پہنچی تو صرف 10 غیر ملکی مرد وہاں موجود تھے، جن میں زیادہ تر بنگلہ دیشی شہری تھے اور ان پر غیر قانونی تارکین وطن ہونے کا شبہ ہے۔ حکام کے مطابق یہ افراد اس لیے فرار نہ ہو سکے کیونکہ وہ سو رہے تھے۔
حکام نے کہا کہ غیر قانونی کان کنی اور غیر قانونی تارکین وطن کے استعمال کے درمیان تعلقات کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ محکمہ امیگریشن کا کہنا ہے کہ غیر قانونی مزدوروں کو پناہ دینے یا ان کی حفاظت کیلئے جدید نگرانی کے نظام کا استعمال ملکی قوانین کی سنگین خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔
ملائیشیا میں حالیہ مہینوں کے دوران غیر قانونی تارکین وطن، اسمگلنگ نیٹ ورکس اور غیر قانونی ملازمتوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مختلف ریاستوں میں امیگریشن حکام مسلسل آپریشنز کر رہے ہیں تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں کو روکا جا سکے اور ملکی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق غیر قانونی کان کنی کے مراکز میں غیر قانونی مزدوروں کا استعمال مزدوری کی کم لاگت اور نگرانی کی کمزوری کے باعث بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ ایسے گروہ اکثر دور دراز جنگلاتی علاقوں کو اپنی سرگرمیوں کیلئے استعمال کرتے ہیں۔

COMMENTS