کوالالمپور: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے ایک خصوصی آپریشن کے دوران جعلی سیکیورٹی اسٹیمپ تیار کرنے والے ایک منظم گروہ کو بے نقاب کرتے ہوئے د...
کوالالمپور: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے ایک خصوصی آپریشن کے دوران جعلی سیکیورٹی اسٹیمپ تیار کرنے والے ایک منظم گروہ کو بے نقاب کرتے ہوئے دو مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائی 5 مئی 2026 کو دوپہر تقریباً 12 بجے کوالالمپور کے علاقے تمان کیپونگ انڈاہ اور امپانگ کے تمان داگانگ میں بیک وقت کی گئی۔
حکام کے مطابق یہ کارروائی ایک ماہ طویل خفیہ نگرانی اور انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی۔ گرفتار ہونے والے دونوں افراد انڈونیشیا کے شہری ہیں، جن کی عمریں تقریباً 52 سال ہیں اور انہیں ‘پادی’ اور ‘امیر’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ دونوں افراد اس گروہ کے مرکزی کردار تھے اور ملائیشیا میں بغیر کسی قانونی سفری دستاویز کے مقیم تھے۔
آپریشن کے دوران امیگریشن حکام نے بڑی مقدار میں جعلی مواد برآمد کیا، جس میں 20 جعلی سیکیورٹی اسٹیمپ شامل ہیں جو بظاہر محکمہ امیگریشن کے اصل اسٹیمپ کی نقل تھے۔ اس کے علاوہ 16 انڈونیشین پاسپورٹس، چار "سورات پرجالان لکسنا پاسپور" (عارضی سفری دستاویزات)، دو موبائل فونز، ایک لیپ ٹاپ، پرنٹر اور اسکینر بھی قبضے میں لیے گئے۔ مزید برآں، گروہ کی سرگرمیوں میں استعمال ہونے والی دو گاڑیاں، ایک پروٹون ایکسورا اور ایک نسان المیرا بھی ضبط کر لی گئیں۔
تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ یہ گروہ انڈونیشین شہریوں کو جعلی انٹری اور ایگزٹ اسٹیمپ فراہم کرتا تھا، خاص طور پر ان افراد کو جو ملائیشیا میں اپنی ویزا مدت سے زیادہ عرصہ قیام کر چکے تھے۔ اس سروس کے لیے فی کس 100 سے 350 رنگٹ تک رقم وصول کی جاتی تھی۔ گروہ اپنے گاہکوں تک پہنچنے کے لیے واٹس ایپ، ٹیلیگرام اور ٹک ٹاک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کرتا تھا، جس سے اس کی رسائی وسیع ہو گئی تھی۔
مزید برآں، حکام نے انکشاف کیا کہ گرفتار ملزم ‘امیر’ اس سے قبل بھی اسی نوعیت کے جرم میں گرفتار ہو چکا ہے۔ اسے ملک بدر کرنے کے ساتھ بلیک لسٹ بھی کیا گیا تھا، تاہم ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ غیر قانونی راستے سے دوبارہ ملائیشیا میں داخل ہوا اور دوبارہ اسی سرگرمی میں ملوث ہو گیا۔
یہ کیس اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے لیے جعلی دستاویزات اور اسٹیمپ کا استعمال ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے، جس سے نہ صرف قانونی نظام متاثر ہوتا ہے بلکہ سرحدی سیکیورٹی کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے حکام نے اس طرح کے جرائم کے خلاف سخت اقدامات جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
دونوں ملزمان کو حراست میں لے کر مزید تفتیش جاری ہے۔ ان کے خلاف امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی سیکشن 56(1)(l) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
محکمہ امیگریشن نے واضح کیا ہے کہ وہ ایسے غیر قانونی نیٹ ورکس کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا تاکہ ملک میں قانون کی حکمرانی اور سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دیں۔

COMMENTS