پتراجایا: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے ایک منظم اسمگلنگ نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تارکین وطن کی اسمگلنگ میں ملوث گروہ “گینگ شفیق” ...
پتراجایا: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے ایک منظم اسمگلنگ نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تارکین وطن کی اسمگلنگ میں ملوث گروہ “گینگ شفیق” کو ختم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ کارروائی محکمہ امیگریشن کے انفورسمنٹ ڈویژن کی جانب سے کی گئی، جس کے دوران ایک خفیہ ٹھکانے پر چھاپہ مار کر متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا۔
حکام کے مطابق، کارروائی کے دوران ایک ایسے گھر کو نشانہ بنایا گیا جو غیر قانونی تارکین وطن کے لیے عارضی پناہ گاہ اور ٹرانزٹ پوائنٹ کے طور پر استعمال ہو رہا تھا۔ اسی روز دوپہر تقریباً 2 بجے ایک علیحدہ چھاپہ سیلانگور کے علاقے پیتالنگ جایا میں واقع دکانوں کے قریب ایک مکان پر مارا گیا، جہاں سے نو (9) بنگلہ دیشی شہریوں کو گرفتار کیا گیا۔
ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ گرفتار کیے گئے افراد حال ہی میں تقریباً دو دن قبل ہمسایہ ملک کے ذریعے اس خطے میں داخل ہوئے تھے، جس کے بعد انہیں غیر قانونی طور پر ملائیشیا منتقل کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار انسانی اسمگلنگ نیٹ ورکس کی ایک عام حکمت عملی ہے، جس میں تیسرے ملک کو عبوری راستے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تاکہ براہ راست سرحدی نگرانی سے بچا جا سکے۔
اسی کارروائی میں مزید دو بنگلہ دیشی شہریوں کو بھی گرفتار کیا گیا، جن پر شبہ ہے کہ وہ اس گروہ کے فعال ارکان ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ افراد “فیسلیٹیٹر” اور ٹرانزٹ ہاؤس کے نگران کے طور پر کام کر رہے تھے، یعنی یہ اسمگل کیے گئے افراد کو محفوظ ٹھکانوں تک پہنچانے اور آگے منتقلی کے انتظامات کرتے تھے۔
تحقیقات سے یہ بھی انکشاف ہوا کہ یہ گروہ فروری 2026 سے سرگرم تھا اور غیر قانونی تارکین وطن کو تیسرے ممالک کے ذریعے ملائیشیا میں داخل کرواتا تھا۔ اسمگلنگ کا یہ نیٹ ورک خاص طور پر کیلانتن کے راستے غیر قانونی داخلے کو ممکن بناتا تھا، جہاں سے افراد کو براہ راست کلانگ ویلی منتقل کیا جاتا اور پھر انہیں مختلف مقامات پر بھیجا جاتا تھا۔
حکام کے مطابق یہ گروہ ہر فرد سے 12,000 سے 15,000 رنگٹ تک وصول کرتا تھا۔ اندازہ ہے کہ اس دوران گروہ نے تقریباً 1.6 ملین رنگٹ (16 لاکھ) سے زائد رقم کمائی۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انسانی اسمگلنگ ایک منافع بخش مگر غیر قانونی سرگرمی کے طور پر جاری ہے، جس کے خلاف سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔
گرفتار کیے گئے تمام افراد، جن کی عمریں 20 سے 49 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں، کو مزید تفتیش کے لیے پتراجایا امیگریشن ڈیپو منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان کے خلاف انسداد انسانی اسمگلنگ اور تارکین وطن اسمگلنگ ایکٹ 2007 کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے، جو اس نوعیت کے جرائم کے لیے سخت سزائیں فراہم کرتا ہے۔
محکمہ امیگریشن نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ ایسے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔ ادارے کے مطابق، امیگریشن ایکٹ 1959/63، پاسپورٹ ایکٹ 1966، امیگریشن ریگولیشنز 1963 اور اسمگلنگ ایکٹ کے تحت کسی بھی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں نہ صرف غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے ضروری ہیں بلکہ ملکی سلامتی، نظم و ضبط اور معاشی استحکام کے لیے بھی اہم ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ اقدامات حکومت کی پالیسی کے مطابق ملک میں قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کا حصہ ہیں۔

COMMENTS