کوالالمپور: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے ملک بھر میں کیے گئے 32 مختلف آپریشنز کے دوران 150 غیر قانونی تارکین وطن اور 13 آجروں کو گرفتار کر ...
کوالالمپور: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے ملک بھر میں کیے گئے 32 مختلف آپریشنز کے دوران 150 غیر قانونی تارکین وطن اور 13 آجروں کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق یہ کارروائیاں 4 مئی کو امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف کی گئیں۔
محکمہ امیگریشن کے ڈائریکٹر جنرل داتوک ذکریا شعبان نے ایک بیان میں کہا کہ غیر قانونی تارکین وطن اور امیگریشن سہولیات کے غلط استعمال کے خلاف نافذ العمل اقدامات کو مزید سخت کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار کیے گئے 13 آجروں پر الزام ہے کہ انہوں نے ایسے غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت دی جن کے پاس درست سفری دستاویزات یا قانونی ورک پاس موجود نہیں تھے۔
حکام کے مطابق کارروائیوں کا مقصد صرف غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کرنا نہیں بلکہ ان افراد اور کاروباری اداروں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کرنا ہے جو امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی میں سہولت فراہم کرتے ہیں۔ ملائیشیا میں حالیہ عرصے میں غیر قانونی ملازمت، زائد مدت قیام اور ویزا شرائط کی خلاف ورزیوں کے خلاف نگرانی میں اضافہ کیا گیا ہے۔
ذکریا شعبان نے کہا کہ محکمہ خاص طور پر سوشل وزٹ پاس اور ٹیمپریری ایمپلائمنٹ وزٹ پاس کے غلط استعمال کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ بعض غیر ملکی افراد قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے کے بعد منظور شدہ شعبوں کے علاوہ دیگر شعبوں میں کام کرتے پائے گئے، جو امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جو بھی افراد یا آجر پاس کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے پائے جائیں گے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی، جس میں پاس کی منسوخی اور ملک بدری بھی شامل ہو سکتی ہے۔ یہ اقدام اس لیے اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ حکام کے مطابق غیر قانونی افرادی قوت بعض اوقات غیر رجسٹرڈ کاروبار، غیر قانونی سرگرمیوں اور کم اجرت والے غیر رسمی شعبوں میں استعمال کی جاتی ہے۔
محکمہ امیگریشن کے مطابق ملک بھر میں جاری انسپیکشن اور نفاذی کارروائیوں کا مقصد امیگریشن نظام کو بہتر بنانا اور قانونی عملداری کو یقینی بنانا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں آجروں کی ذمہ داری بھی اہم ہوتی ہے کیونکہ ملازمت دینے سے پہلے غیر ملکی کارکنوں کے قانونی دستاویزات کی تصدیق ضروری ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ عوام بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کر سکتے ہیں۔ محکمہ امیگریشن نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی یا غیر قانونی تارکین وطن کی موجودگی سے متعلق معلومات حکام تک پہنچائیں تاکہ کارروائیوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
ملائیشیا میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں گزشتہ چند برسوں سے مسلسل جاری ہیں۔ اس سے قبل بھی مختلف ریاستوں میں بڑے پیمانے پر چھاپے مارے گئے تھے جن میں سیکڑوں افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد ملکی سکیورٹی، لیبر قوانین اور امیگریشن نظام کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض آجر کم لاگت مزدوری کے لیے غیر قانونی کارکنوں کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم اس سے نہ صرف قانونی مسائل پیدا ہوتے ہیں بلکہ مقامی لیبر مارکیٹ پر بھی اثر پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے حکومت نے آجروں کے خلاف کارروائیوں میں بھی اضافہ کیا ہے۔
محکمہ امیگریشن نے اس بات پر زور دیا کہ غیر قانونی ملازمت اور ویزا شرائط کی خلاف ورزیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رکھی جائے گی، جبکہ آئندہ بھی ملک بھر میں مشترکہ آپریشنز کیے جاتے رہیں گے۔

COMMENTS