پوتراجایا: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے ایک مشترکہ کارروائی کے دوران ہائی وے کے ریسٹ اینڈ سروس ایریا میں کام کرنے والے غیر قانونی غیر ملکی ...
پوتراجایا: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے ایک مشترکہ کارروائی کے دوران ہائی وے کے ریسٹ اینڈ سروس ایریا میں کام کرنے والے غیر قانونی غیر ملکی کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔ یہ کارروائی ملک میں غیر قانونی روزگار اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں کے سدباب کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
محکمہ امیگریشن ملائیشیا کے مطابق یہ آپریشن 4 مئی 2026 کو ڈینگکل کے ریسٹ اینڈ سروس ایریا میں کیا گیا، جو نارتھ-ساؤتھ ایکسپریس وے سینٹرل لنک کے جنوبی رخ پر واقع ہے۔ اس کارروائی کا مقصد ایسے غیر ملکی افراد کی نشاندہی کرنا تھا جو بغیر قانونی اجازت کے کام کر رہے تھے۔ آپریشن میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 30 افسران نے حصہ لیا، جنہیں نیشنل رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں کی معاونت بھی حاصل تھی۔
حکام کے مطابق یہ کارروائی عوامی شکایات اور ایک ہفتے تک جاری رہنے والی خفیہ نگرانی کے بعد عمل میں لائی گئی۔ ٹیم نے مجموعی طور پر 39 افراد کی جانچ پڑتال کی، جن میں 27 غیر ملکی شہری اور 12 مقامی افراد شامل تھے۔ اس ابتدائی اسکریننگ کے بعد مزید تفتیش کی گئی جس کے نتیجے میں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کی نشاندہی ممکن ہوئی۔
تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ بعض آجر غیر ملکی کارکنوں کو کاروباری مراکز اور کیوسک میں ملازمت دے رہے تھے، جبکہ ان کے ورک پرمٹس دیگر کمپنیوں کے نام پر رجسٹرڈ تھے۔ اس کے علاوہ کچھ افراد سوشل وزٹ پاس کا غلط استعمال کرتے ہوئے ملازمت اختیار کیے ہوئے تھے، جو امیگریشن قوانین کی واضح خلاف ورزی ہے۔ اس طریقہ کار کو حکام نے ایک منظم حکمت عملی قرار دیا جس کا مقصد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دھوکہ دینا تھا۔
کارروائی کے نتیجے میں مجموعی طور پر 20 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیا گیا، جن کی عمریں 23 سے 40 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔ ان میں 11 مرد اور 7 خواتین کا تعلق انڈونیشیا سے ہے، جبکہ 2 مرد بنگلہ دیش کے شہری ہیں۔ ان تمام افراد کو امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی مختلف دفعات کے تحت حراست میں لیا گیا، جن میں غیر قانونی قیام اور بغیر اجازت کام کرنے جیسے جرائم شامل ہیں۔
مزید برآں، تحقیقات میں معاونت کے لیے 5 مقامی شہریوں کو بھی سمن جاری کیے گئے، جنہیں بطور گواہ طلب کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ افراد کیس کی مکمل تفتیش میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تمام گرفتار غیر ملکیوں کو مزید قانونی کارروائی کے لیے امیگریشن ڈیٹنشن ڈپو منتقل کر دیا گیا ہے۔
محکمہ امیگریشن نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر کاروبار کرنے، ویزا کی مدت سے زیادہ قیام کرنے اور پاسپورٹ یا ویزا کا غلط استعمال کرنے والے غیر ملکیوں کے خلاف کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گا۔ ادارے نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایسے آجر جو غیر قانونی کارکنوں کو ملازمت فراہم کرتے ہیں یا انہیں تحفظ دیتے ہیں، ان کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یہ کارروائی ملائیشیا کی اس وسیع پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت ملک میں غیر قانونی تارکین وطن اور غیر رجسٹرڈ لیبر کے خلاف اقدامات کو مزید سخت کیا جا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں حکام نے مختلف شعبوں میں غیر قانونی ملازمتوں کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جس کے نتیجے میں اس نوعیت کے آپریشنز میں اضافہ کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کی کارروائیاں نہ صرف قانون کی عملداری کو یقینی بناتی ہیں بلکہ مقامی لیبر مارکیٹ کو بھی متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ اقدامات ملک کی سکیورٹی اور امیگریشن سسٹم کی شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے بھی اہم سمجھے جاتے ہیں۔
محکمہ امیگریشن نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع متعلقہ حکام کو دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔ اس طرح کی معلومات مستقبل میں مزید مؤثر کارروائیوں میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

COMMENTS