کوالالمپور: ملائیشیا میں آن لائن اور پارٹ ٹائم ملازمت کے نام پر ہونے والے فراڈ کے کیسز میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ رائل ملائیشین پولیس ...
کوالالمپور: ملائیشیا میں آن لائن اور پارٹ ٹائم ملازمت کے نام پر ہونے والے فراڈ کے کیسز میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ رائل ملائیشین پولیس کے مطابق رواں سال کے پہلے تین ماہ کے دوران جاب اسکیم سے متعلق 1,537 شکایات موصول ہوئیں، جن میں مجموعی مالی نقصان 3 کروڑ 18 لاکھ رنگٹ ریکارڈ کیا گیا۔
بکیت امان کمرشل کرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر داتوک رسدی محمد عیسیٰ نے کہا کہ جنوری سے مارچ 2026 کے دوران سامنے آنے والے زیادہ تر کیسز میں فراڈی گروہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور میسجنگ ایپس کے ذریعے افراد کو پارٹ ٹائم ملازمت کی پیشکش کرتے رہے۔
پولیس کے مطابق ان اسکیمز میں متاثرین کو آسان کاموں کے بدلے غیر معمولی کمیشن یا تنخواہ کا لالچ دیا جاتا ہے۔ ان کاموں میں سوشل میڈیا پوسٹس کو لائک کرنا، فالو کرنا یا آن لائن ٹاسک مکمل کرنا شامل ہوتے ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں بعض متاثرین کو معمولی رقم ادا کی جاتی ہے تاکہ اعتماد قائم ہو جائے، لیکن بعد میں ان سے مزید رقم مختلف فیسوں کے نام پر طلب کی جاتی ہے۔
داتوک رسدی نے واضح کیا کہ قانونی اور مستند کمپنیاں ملازمت شروع کرنے سے پہلے رجسٹریشن فیس، ٹریننگ فیس، ڈپازٹ یا آلات خریدنے کے نام پر رقم طلب نہیں کرتیں۔ انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ کسی بھی ملازمت کی پیشکش پر فوری یقین نہ کریں، خاص طور پر اگر کم محنت کے بدلے بہت زیادہ آمدنی کا وعدہ کیا جا رہا ہو۔
انہوں نے کہا کہ ایسے اشتہارات جن میں صرف واٹس ایپ یا ٹیلیگرام کے ذریعے رابطہ کیا جائے اور کمپنی کی باضابطہ ای میل یا مستند جاب پورٹل استعمال نہ کیا جائے، انہیں مشکوک سمجھنا چاہیے۔
پولیس نے عوام کو ہدایت دی کہ کسی بھی ملازمت کے لیے درخواست دینے سے پہلے متعلقہ کمپنی کے بارے میں مکمل تحقیق کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ حساس ذاتی معلومات جیسے بینک اکاؤنٹ نمبر، شناختی کارڈ کی کاپی یا پاس ورڈ نامعلوم افراد کے ساتھ شیئر نہ کیے جائیں۔
ملائیشیا میں حالیہ برسوں کے دوران آن لائن فراڈ اور جاب اسکیم کے کیسز میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب زیادہ لوگ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ملازمتیں تلاش کر رہے ہیں۔ فراڈی گروہ اسی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جعلی ملازمتوں کے اشتہارات شائع کرتے ہیں اور لوگوں کو مالی نقصان پہنچاتے ہیں۔
پولیس نے عوام کو مشورہ دیا کہ ملازمت تلاش کرنے کے لیے صرف معروف اور مستند پلیٹ فارمز جیسے لنکڈ ان، انڈیڈ، جابز سٹریٹ یا متعلقہ کمپنی کی آفیشل ویب سائٹ استعمال کریں۔ حکام کے مطابق یہ پلیٹ فارمز نسبتاً محفوظ سمجھے جاتے ہیں اور یہاں جعلی ملازمتوں کے امکانات کم ہوتے ہیں۔
داتوک رسدی نے مزید کہا کہ اگر کسی کو کسی جاب آفر پر شک ہو تو وہ فوری طور پر پولیس سے رابطہ کرے یا پی ڈی آر ایم کی آن لائن سسٹم کے ذریعے مشتبہ بینک اکاؤنٹس اور فون نمبرز کی جانچ کرے۔ یہ پلیٹ فارم عوام کو ممکنہ اسکیمز کی نشاندہی میں مدد فراہم کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جاب اسکیم کے بڑھتے ہوئے کیسز اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آن لائن ملازمتوں کے شعبے میں آگاہی کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ خاص طور پر نوجوان، طلبہ اور اضافی آمدنی کے خواہشمند افراد اکثر ایسے فراڈ کا نشانہ بنتے ہیں کیونکہ انہیں فوری کمائی کی پیشکش کی جاتی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ عوامی آگاہی، مستند ذرائع کا استعمال اور ذاتی معلومات کے تحفظ کے ذریعے ان فراڈ کیسز سے کافی حد تک بچا جا سکتا ہے۔ حکام نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ غیر حقیقی منافع یا کم وقت میں زیادہ کمائی کے دعوؤں سے محتاط رہیں۔

COMMENTS