کوالالمپور: ملائیشیا کے نیشنل رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے والدین کو یاد دہانی کرائی ہے کہ بچوں کے نام رجسٹر کراتے وقت مختصر لفظ “Mohd” استعمال ن...
کوالالمپور: ملائیشیا کے نیشنل رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے والدین کو یاد دہانی کرائی ہے کہ بچوں کے نام رجسٹر کراتے وقت مختصر لفظ
“Mohd”
استعمال نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اسے مکمل شکل میں لکھنا ضروری ہوگا، جیسے
“Mohamad”، “Muhamad” یا “Muhammad”۔
یہ وضاحت جے پی این کے صوبہ پینانگ کے دفتر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم تھریڈز پر جاری ایک پوسٹ میں کی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ موجودہ قواعد کے مطابق بچوں کے ناموں میں مختصر الفاظ قبول نہیں کیے جائیں گے اور تمام نام مکمل طور پر تحریر کرنا لازمی ہے۔
حکام کے مطابق یہ کوئی نیا قانون نہیں بلکہ پہلے سے موجود پالیسی کی دوبارہ وضاحت ہے۔ اس سے قبل بھی
“Abd” اور “Mohd”
جیسے مختصر ناموں کے استعمال پر پابندی عائد کی جا چکی تھی، اور ان کی جگہ
“Abdul” اور “Muhammad”
مکمل طور پر لکھنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
محکمہ رجسٹریشن کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد سرکاری دستاویزات میں ناموں کو یکساں اور واضح بنانا ہے تاکہ شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور دیگر ریکارڈز میں املا کے فرق یا غلطیوں سے بچا جا سکے۔ حکام کے مطابق مختلف انداز میں مختصر نام لکھنے سے بعض اوقات دستاویزات کی تصدیق اور ریکارڈ مینجمنٹ میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر اس اعلان کے بعد مختلف ردعمل سامنے آئے۔ کچھ افراد نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ 1980 کی دہائی میں پیدا ہونے والے وہ لوگ جن کے شناختی کارڈز پر
“Mohd”
درج ہے اب “نایاب” سمجھے جائیں گے۔ اس پر جے پی این پینانگ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ نے جواب دیا کہ اگر یہ مزید نایاب ہو گئے تو “قومی خزانہ” بن جائیں گے۔
دوسری جانب کئی صارفین نے اس فیصلے کی حمایت بھی کی۔ بعض افراد کا کہنا تھا کہ نام مکمل لکھنے سے سرکاری ریکارڈز میں آسانی ہوگی اور لوگوں کو بار بار نام کے درست ہجے پوچھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ اگرچہ ان کے شناختی کارڈ پر
“Mohd”
درج ہے، لیکن
“Muhammad”
مکمل لکھا ہوا زیادہ بہتر اور خوبصورت محسوس ہوتا ہے۔ اس طرح کے تبصرے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عوام کی ایک بڑی تعداد ناموں کے معیاری طریقہ کار کو مثبت انداز میں دیکھ رہی ہے۔
ملائیشیا میں ناموں اور شناختی دستاویزات سے متعلق قواعد نیشنل رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے تحت نافذ کیے جاتے ہیں۔ ان قوانین کا مقصد شہریوں کے سرکاری ریکارڈز کو منظم، درست اور یکساں رکھنا ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل ڈیٹا بیس اور جدید شناختی نظام میں ناموں کی معیاری اسپیلنگ اہم کردار ادا کرتی ہے، کیونکہ معمولی فرق بھی بعض اوقات ریکارڈ میچنگ یا قانونی دستاویزات میں مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ ہدایت بنیادی طور پر نئے بچوں کی رجسٹریشن پر لاگو ہوتی ہے۔ موجودہ شناختی کارڈ رکھنے والوں کے لیے فوری طور پر نام تبدیل کرنا لازمی قرار نہیں دیا گیا۔
یہ اقدام ملائیشیا کی اس وسیع پالیسی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے جس کے تحت سرکاری ریکارڈز کو زیادہ منظم اور ڈیجیٹل نظام کے مطابق بنایا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں شناخت اور دستاویزات کے معاملات میں پیچیدگی کم ہو سکے۔

COMMENTS