ملائیشیا حکومت نے قومی سطح پر ایک نئے امیگریشن نظام “نیشنل انٹیگریٹڈ امیگریشن سسٹم” کے مکمل نفاذ کا اعلان کیا ہے، جو رواں سال ستمبر تک ملک ک...
ملائیشیا حکومت نے قومی سطح پر ایک نئے امیگریشن نظام “نیشنل انٹیگریٹڈ امیگریشن سسٹم” کے مکمل نفاذ کا اعلان کیا ہے، جو رواں سال ستمبر تک ملک کے تمام داخلی راستوں پر نافذ کر دیا جائے گا۔ حکام کے مطابق یہ نظام سرحدی کنٹرول کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ مسافروں کی آمد و رفت کے عمل کو تیز اور مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
وزیر داخلہ داتوک سری سیف الدین ناسوشن اسماعیل نے بتایا کہ یہ نیا نظام موجودہ امیگریشن سسٹم کی جگہ لے رہا ہے اور اسے مرحلہ وار نافذ کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس نظام کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ مسافروں کی جانچ پڑتال کا عمل صرف چار سے پانچ سیکنڈ میں مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو موجودہ طریقہ کار کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ نئے نظام کے تحت مسافروں کو کلیئر کرنے کے لیے تین مختلف طریقے متعارف کرائے گئے ہیں، جن میں چہرے کی شناخت (فیشل ریکگنیشن)، کیو آر کوڈ اور پاسپورٹ کے ذریعے تصدیق شامل ہے۔ اس جدید نظام کا مقصد ایئرپورٹس پر رش کم کرنا اور آمد و روانگی کے عمل کو ہموار بنانا ہے۔
سیف الدین ناسوشن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، “یہ ایک گیم چینجر ثابت ہوگا۔ ہم نہیں چاہتے کہ ایئرپورٹس پر بھیڑ یا تاخیر کا سامنا ہو، چاہے وہ آمد ہو یا روانگی۔” تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ نئے نظام کے نفاذ کے ابتدائی مرحلے میں معمولی تکنیکی مسائل پیش آ سکتے ہیں، لیکن ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک فطری عمل ہے اور ان مسائل کو کم سے کم رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔
حکام کے مطابق اس وقت کوالالمپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل 1 پر 60 سے زائد آٹوگیٹ لینز فعال ہیں، جو مسافروں کی تیز رفتار کلیئرنس میں مدد دے رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، امیگریشن چیکنگ کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے “اسکریننگ” اور “سورٹنگ” جیسے اصولوں کو اپنایا گیا ہے، جبکہ رسک پروفائلنگ اور انٹیلی جنس پر مبنی نفاذ کے ذریعے مشتبہ یا زیادہ خطرے والے مسافروں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
نئے نظام کے تحت ایئرپورٹ پر “نتھنگ ٹو ڈیکلیئر” اور “گڈز ٹو ڈیکلیئر” جیسے علیحدہ راستے بھی متعارف کرائے گئے ہیں، تاکہ مسافروں کی نقل و حرکت کو منظم کیا جا سکے اور قانونی تقاضوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔
وزیر داخلہ نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ رفتار میں اضافہ اہم ہے، لیکن سیکیورٹی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق سامان کی جانچ پڑتال خاص طور پر اہم ہے تاکہ منشیات، اسلحہ یا دیگر ممنوعہ اشیاء کی ملک میں داخلے کو روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا، “آسانی اور تیزی اپنی جگہ، لیکن سیکیورٹی ہمیشہ اولین ترجیح رہے گی۔”
مزید برآں، ملائیشین بارڈر کنٹرول اینڈ پروٹیکشن ایجنسی کو بھی جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا جا رہا ہے تاکہ اس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ اس اپ گریڈیشن کے دوسرے مرحلے میں اضافی تکنیکی وسائل فراہم کیے جائیں گے۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے پہلے تین مہینوں میں کے ایل آئی اے کے ٹرمینل 1 اور 2 کے ذریعے 4.6 ملین (46 لاکھ) سے زائد مسافروں کی آمد ریکارڈ کی گئی، جو بڑھتی ہوئی ٹریفک کی نشاندہی کرتی ہے۔ اسی وجہ سے جدید اور تیز رفتار امیگریشن نظام کی ضرورت کو ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔
ایئرپورٹ حکام کے مطابق سرحدی کنٹرول کے دوران کئی چیلنجز کا سامنا بھی رہتا ہے، جن میں جانچ سے بچنے کی کوششیں، داخلے کی شرائط کی خلاف ورزی، اور ٹرمینل کے اندر غیر مناسب رویے جیسے مسائل شامل ہیں۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کے ایل آئی اے ٹرمینل 1 میں تقریباً 5,000 سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں، جو نگرانی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
یہ نیا نظام نہ صرف امیگریشن کے عمل کو تیز بنائے گا بلکہ ملک کی سرحدی سیکیورٹی کو بھی مضبوط کرے گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سیاحت اور بین الاقوامی سفر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

COMMENTS