کوالالمپور: ملائیشیا کی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ جون 2026 سے نئے مائی کاڈ (قومی شناختی کارڈ) اور جدید پاسپورٹس کا اجرا شروع کیا جائے ...
کوالالمپور: ملائیشیا کی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ جون 2026 سے نئے مائی کاڈ (قومی شناختی کارڈ) اور جدید پاسپورٹس کا اجرا شروع کیا جائے گا، جس کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد قومی شناختی نظام کو جدید بنانا اور سیکیورٹی کو مزید مضبوط کرنا ہے۔
وزیرِ داخلہ داتوک سری سیف الدین ناسوشن اسماعیل نے کہا کہ اس منصوبے کے لیے سسٹم، انفراسٹرکچر اور متعلقہ اداروں کی تیاری کو مکمل طور پر یقینی بنایا گیا ہے تاکہ اس کا نفاذ بغیر کسی رکاوٹ کے کیا جا سکے۔ انہوں نے وزارتِ داخلہ کی ماہانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس تبدیلی پر کافی عرصے سے کام جاری تھا اور اب اسے عملی شکل دینے کا وقت آ گیا ہے۔
ان کے مطابق ہر دور میں شناختی دستاویزات کو بہتر سیکیورٹی فیچرز کے ساتھ اپ ڈیٹ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اسی تسلسل میں نئے مائی کاڈ اور پاسپورٹس میں جدید اور اسمارٹ ٹیکنالوجی شامل کی گئی ہے، جس سے نہ صرف سیکیورٹی میں اضافہ ہوگا بلکہ سروسز کی کارکردگی بھی بہتر ہو گی۔
وزیرِ داخلہ نے کہا، “ہمیں یقین ہے کہ نیشنل رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ اور امیگریشن ڈیپارٹمنٹ اس بڑے مرحلے کے لیے تیار ہیں۔ ہم اس اہم مرحلے کو کامیابی سے مکمل کریں گے۔” ان کے مطابق یہ اقدام وزارتِ داخلہ کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ سرکاری شناختی دستاویزات کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کیا جائے۔
نئے مائی کاڈ اور پاسپورٹس میں شامل کیے جانے والے فیچرز کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ جدید سیکیورٹی اور اسمارٹ ٹیکنالوجی پر مبنی ہوں گے، جو شناخت کی تصدیق کے عمل کو زیادہ محفوظ اور مؤثر بنائیں گے۔ اس کے ذریعے جعلی دستاویزات کے استعمال کو روکنے اور سرحدی نگرانی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
حکام کے مطابق یہ اقدام ملائیشیا میں بڑھتی ہوئی ڈیجیٹلائزیشن اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے رجحان کا حصہ ہے۔ حکومت مختلف شعبوں میں ڈیجیٹل نظام متعارف کرا رہی ہے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں اور سرکاری نظام کو زیادہ شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے۔
اسی موقع پر وزیرِ داخلہ نے یہ بھی بتایا کہ شہریت کی درخواستوں کے لیے نیا مینجمنٹ سسٹم بھی آخری مراحل میں ہے اور اسے جلد متعارف کرایا جائے گا۔ اس سے شہریت کے عمل کو مزید آسان اور منظم بنانے میں مدد ملے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر شناختی دستاویزات کی سیکیورٹی اور بارڈر کنٹرول کے نظام کو مسلسل اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نہ صرف قومی سلامتی بہتر ہوتی ہے بلکہ مسافروں کے لیے بھی عمل زیادہ آسان اور تیز ہو جاتا ہے۔

COMMENTS