کوالالمپور: ملائیشیا میں آن لائن فراڈ کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف پولیس نے بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے 2026 کے ابتدائی تین ماہ میں مج...
کوالالمپور: ملائیشیا میں آن لائن فراڈ کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف پولیس نے بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے 2026 کے ابتدائی تین ماہ میں مجموعی طور پر 833 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ یہ گرفتاریاں دو خصوصی آپریشنز، “آپریشن ٹارِنگ” اور “آپریشن بیلاتُک” کے دوران عمل میں آئیں، جن کا مقصد کال سینٹرز اور ای-کامرس فراڈ نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا تھا۔
کمرشل کرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر داتوک روسدی محمد عیسیٰ کے مطابق یہ دونوں آپریشنز ایک مربوط حکمت عملی کے تحت کیے گئے تاکہ ملک میں بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل فراڈ کو قابو میں لایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کارروائیوں میں نہ صرف مقامی بلکہ غیر ملکی افراد بھی بڑی تعداد میں ملوث پائے گئے۔
“آپریشن ٹارِنگ” 26 جنوری سے 5 فروری تک جاری رہا، جس دوران 430 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان میں سے 270 افراد غیر ملکی شہری تھے جبکہ باقی مقامی افراد تھے، جو مبینہ طور پر مختلف کردار ادا کر رہے تھے، جن میں کال سینٹر آپریٹرز، فراڈ اسکرپٹ فراہم کرنے والے اور کمیونیکیشن انفراسٹرکچر مہیا کرنے والے شامل تھے۔ اس آپریشن کے دوران تقریباً 307,860 ملائیشین رنگٹ مالیت کا مواصلاتی سامان بھی ضبط کیا گیا۔ حکام کے مطابق 74 کیسز میں سے 18 مقدمات عدالت میں پیش کیے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب “آپریشن بیلاتُک” 13 اپریل سے 19 اپریل تک کیا گیا، جس میں 403 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ یہ آپریشن خاص طور پر جعلی پارٹ ٹائم جاب آفرز اور ای-کامرس فراڈ کے خلاف تھا، جو حالیہ عرصے میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ گرفتار افراد میں سے 358 کو بینک اکاؤنٹ ہولڈرز یا “اکاؤنٹ مولز” کے طور پر شناخت کیا گیا، جبکہ 45 افراد 11 مختلف گروہوں کے ساتھ براہ راست فراڈ آپریشنز میں ملوث پائے گئے۔
حکام نے بتایا کہ پارٹ ٹائم جاب کے نام پر ہونے والے فراڈ میں گزشتہ سال 173 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے نتیجے میں 219.6 ملین رنگٹ سے زائد کا مالی نقصان ہوا۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آن لائن دھوکہ دہی ایک سنجیدہ مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جس کے لیے مؤثر اور مربوط کارروائیوں کی ضرورت ہے۔
اسی سلسلے میں پولیس نے دیگر آپریشنز بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ “آپریشن فرنٹیئر” کے تحت 1,372 افراد کو گرفتار کیا گیا جو بینک اکاؤنٹ کے غیر قانونی استعمال میں ملوث تھے، جبکہ “آپریشن چندراہاتی” کے ذریعے غیر موجود تحفہ سپلائی اسکیمز سے متعلق 46 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
پس منظر کے طور پر دیکھا جائے تو ملائیشیا سمیت دنیا بھر میں آن لائن تجارت اور ڈیجیٹل لین دین میں اضافے کے ساتھ فراڈ کے طریقے بھی پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ کال سینٹرز کے ذریعے دھوکہ دہی، جعلی جاب آفرز، اور ای-کامرس پلیٹ فارمز کے ذریعے فراڈ ایسے عام طریقے ہیں جن کے ذریعے شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی آگاہی، سخت قوانین اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ایسے جرائم کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ حکام نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ شہری کسی بھی مشکوک آن لائن پیشکش یا رابطے سے محتاط رہیں اور تصدیق کے بغیر مالی لین دین سے گریز کریں۔

COMMENTS