کانگار: ملائیشیا کی ریاست پرلس میں سیشن کورٹ نمبر 2 نے امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی سے متعلق متعدد مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے غیر ملکی شہریو...
کانگار: ملائیشیا کی ریاست پرلس میں سیشن کورٹ نمبر 2 نے امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی سے متعلق متعدد مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے غیر ملکی شہریوں کو سزائیں سنائیں۔ یہ مقدمات امیگریشن ایکٹ 1959/63 اور متعلقہ قواعد کے تحت دائر کیے گئے تھے، جن میں غیر قانونی داخلہ، قیام اور دیگر خلاف ورزیاں شامل تھیں۔
عدالت میں یہ مقدمات معزز جج یانگ آریف پوان شریفا نورازلیتا بنت سید سلیم ادید کے روبرو پیش کیے گئے، جہاں مختلف کیسز کی دوبارہ سماعت اور نمائندگی کی گئی۔ حکام کے مطابق یہ کارروائیاں امیگریشن قوانین کے نفاذ اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہیں۔
سیکشن 6(1)(سی) کے تحت چلنے والے مقدمات میں مجموعی طور پر 8 غیر ملکی شہریوں کو سزا سنائی گئی، جن کا تعلق میانمار اور بنگلہ دیش سے تھا۔ عدالت نے ان تمام افراد کو گرفتاری کی تاریخ سے 5 ماہ قید کی سزا دی۔ اسی نوعیت کے مزید دو میانمار کے شہریوں کے کیس میں دستاویزات جمع کرانے کے لیے 3 جون 2026 کی تاریخ مقرر کی گئی ہے، جس کے بعد ان کے خلاف مزید قانونی کارروائی متوقع ہے۔
اسی طرح سیکشن 15(1)(سی) کے تحت 3 غیر ملکی شہریوں (بھارت اور میانمار سے تعلق رکھنے والے) پر 10 ہزار ملائیشین رنگٹ جرمانہ یا 6 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ تاہم، ملزمان جرمانہ ادا کرنے میں ناکام رہے، جس کے نتیجے میں انہیں 6 ماہ قید کاٹنا پڑے گی۔ اس کے علاوہ 5 بنگلہ دیشی شہریوں کو بھی اسی سیکشن کے تحت گرفتاری کی تاریخ سے 6 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔
مزید برآں، امیگریشن ریگولیشنز 1963 کے تحت ریگولیشن 39(بی) کے تحت دو بنگلہ دیشی شہریوں کے کیس کی سماعت بھی ہوئی۔ عدالت نے ان پر ایک ہزار رنگٹ جرمانہ یا 4 ماہ قید کی سزا عائد کی۔ دونوں ملزمان نے جرمانہ ادا کر دیا، جس کے باعث انہیں قید کی سزا کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
حکام کے مطابق یہ مقدمات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ملائیشیا میں امیگریشن قوانین پر سختی سے عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ متعلقہ ادارے نہ صرف غیر قانونی داخلے اور قیام کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں بلکہ عدالتی نظام کے ذریعے ان کیسز کو منطقی انجام تک بھی پہنچایا جا رہا ہے۔
پس منظر کے طور پر دیکھا جائے تو ملائیشیا میں امیگریشن قوانین کا نفاذ ایک اہم حکومتی ترجیح ہے، خاص طور پر غیر قانونی تارکین وطن کے مسئلے کو کنٹرول کرنے کے لیے۔ حالیہ برسوں میں مختلف ریاستوں میں چھاپوں، گرفتاریوں اور عدالتی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کا مقصد ملکی سلامتی اور لیبر مارکیٹ کے توازن کو برقرار رکھنا ہے۔
ماہرین کے مطابق عدالتوں کی جانب سے فوری اور واضح فیصلے نہ صرف قانون کی بالادستی کو مضبوط کرتے ہیں بلکہ دیگر افراد کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہوتے ہیں کہ امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ اقدامات حکومتی پالیسیوں کے مؤثر نفاذ میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
حکام نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی اور کسی بھی فرد یا گروہ کے ساتھ رعایت نہیں برتی جائے گی۔ مزید یہ کہ عوام سے بھی تعاون کی اپیل کی گئی ہے تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی ممکن ہو سکے۔

COMMENTS