کوالالمپور: ملائیشیا میں تیزی سے بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر صنعت کو اس وقت ماہر افرادی قوت کی کمی جیسے اہم چیلنج کا سامنا ہے۔ بین ...
کوالالمپور: ملائیشیا میں تیزی سے بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر صنعت کو اس وقت ماہر افرادی قوت کی کمی جیسے اہم چیلنج کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی جریدے دا ڈیپلومیٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ملک میں ٹیک انڈسٹری کی توسیع کے باوجود ہنر مند کارکنوں کی دستیابی محدود ہو رہی ہے، جس کے باعث صنعتوں کے درمیان “ٹیلنٹ وار” جیسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملائیشیا گزشتہ چند برسوں سے خود کو جنوب مشرقی ایشیا میں ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ اور سیمی کنڈکٹر پیداوار کے ایک اہم مرکز کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے، جدید ٹیکنالوجی کمپنیوں کو سہولیات دینے اور چِپ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں اپنا کردار بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے۔
ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم اس سے قبل یہ بیان دے چکے ہیں کہ ملک کی “غیر جانبدار اور کھلی شراکت داری کی پالیسی” اسے عالمی ہائی ٹیک صنعتوں کے لیے موزوں مقام بناتی ہے۔ اسی تناظر میں حکومت نے سیمی کنڈکٹر اور جدید صنعتی شعبوں میں نئی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے منصوبے بھی پیش کیے تھے۔
تاہم، صنعتی ماہرین کے مطابق اس ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تربیت یافتہ اور تجربہ کار افرادی قوت کی کمی بنتی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملائیشیا کی کئی ٹیک کمپنیوں اور مینوفیکچرنگ اداروں کو انجینئرز، سافٹ ویئر ماہرین، ڈیٹا اسپیشلسٹس اور سیمی کنڈکٹر شعبے کے تکنیکی عملے کی بھرتی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ بڑی کمپنیاں ایک دوسرے کے ملازمین کو زیادہ تنخواہوں اور بہتر مراعات کے ذریعے اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اسی وجہ سے انڈسٹری رہنما اس صورتحال کو “وار فار ٹیلنٹ” یعنی ہنر مند افراد کے حصول کی جنگ قرار دے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ملائیشیا خطے میں سیمی کنڈکٹر سپلائی چین کا ایک اہم حصہ بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ عالمی سطح پر چِپ انڈسٹری میں بڑھتی ہوئی مسابقت، امریکہ اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی کشیدگی، اور سپلائی چین کی نئی حکمت عملیوں نے جنوب مشرقی ایشیا کی اہمیت میں اضافہ کیا ہے۔ ایسے میں ملائیشیا، ویتنام، سنگاپور اور تھائی لینڈ جیسے ممالک اپنی صنعتی صلاحیت بڑھانے کے لیے سرگرم ہیں۔
تاہم، صرف سرمایہ کاری یا فیکٹریوں کے قیام سے مسئلہ حل نہیں ہو رہا۔ ماہرین کے مطابق اگر مقامی سطح پر ہنر مند افرادی قوت تیار نہ کی گئی تو ملائیشیا کو بیرونی ماہرین پر انحصار بڑھانا پڑ سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف لاگت میں اضافہ ہوگا بلکہ مقامی نوجوانوں کے لیے مہارت کی ترقی بھی ایک اہم چیلنج بن سکتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ ملائیشیا کی جامعات اور ٹیکنیکل اداروں کو انڈسٹری کی ضروریات کے مطابق جدید تربیتی پروگرام متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ کئی کمپنیاں اب تعلیمی اداروں کے ساتھ شراکت داری کر کے طلبہ کو عملی تربیت فراہم کرنے پر توجہ دے رہی ہیں تاکہ مستقبل میں افرادی قوت کی کمی کو کم کیا جا سکے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر صنعتیں مستقبل کی عالمی معیشت میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔ اسی لیے ملائیشیا کے لیے ضروری ہے کہ وہ سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ انسانی وسائل کی ترقی پر بھی توجہ دے تاکہ طویل مدت میں صنعتی ترقی برقرار رکھی جا سکے۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ اگر ملک ہنر مند افرادی قوت کی تیاری، تنخواہوں کے توازن اور تربیتی نظام کو بہتر بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ خطے میں ایک مضبوط ٹیکنالوجی حب کے طور پر اپنی پوزیشن مستحکم کر سکتا ہے۔

COMMENTS