کوالالمپور: ملائیشین ایمپلائرز فیڈریشن (ایم ای ایف) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک بدر یا واپس بھیجے جانے والے غیر ملکی کارکنوں کی جگہ نئے...
کوالالمپور: ملائیشین ایمپلائرز فیڈریشن (ایم ای ایف) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک بدر یا واپس بھیجے جانے والے غیر ملکی کارکنوں کی جگہ نئے کارکنوں کی منظوری کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ مختلف صنعتوں میں افرادی قوت کی کمی پیدا نہ ہو۔
ایم ای ایف کے صدر داتوک سید حسین نے کہا کہ مائیگرنٹ ریپیٹری ایشن پروگرام 2.0 میں توسیع فوری طور پر نافذ العمل مسائل کو کم کرنے کے لیے ایک عملی اقدام ہے، تاہم اس سے ملائیشیا کے لیبر سسٹم کی بنیادی کمزوریاں بھی نمایاں ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملائیشیا اب بھی غیر قانونی غیر ملکی کارکنوں کے مسئلے کے حل کے لیے وقتی پروگراموں پر انحصار کر رہا ہے، جبکہ ملک کو ایک مستقل، واضح اور پیشگوئی کے قابل غیر ملکی کارکن پالیسی کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق پروگرام میں توسیع سے اگرچہ نفاذی اداروں پر فوری دباؤ کم ہوگا اور غیر قانونی کارکنوں کی تعداد بتدریج گھٹے گی، لیکن اصل مسئلہ ان کارکنوں کی جگہ نئے افراد کی فراہمی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے فوری متبادل نظام متعارف نہ کروایا تو مینوفیکچرنگ، تعمیرات اور شجرکاری جیسے شعبے شدید افرادی قوت کے بحران کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ایم ای ایف کے صدر نے مزید کہا کہ موجودہ حکمت عملی زیادہ تر کارکنوں کی تعداد کم کرنے پر مرکوز ہے، جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ غیر دستاویزی کارکنوں کو قانونی دائرے میں لا کر معیشت کا حصہ بنایا جائے۔ ان کے مطابق کاروباری ادارے پہلے ہی بڑھتی ہوئی لاگتوں، اجرتوں اور آپریشنل اخراجات سے دباؤ میں ہیں، اور لیبر کی کمی صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہے۔
انہوں نے حکومت کو تجویز دی کہ غیر ملکی کارکنوں کی منظوری کے عمل کو ڈیجیٹلائز کیا جائے تاکہ ایجنٹوں اور درمیانی افراد پر انحصار کم ہو اور درخواستوں کی پراسیسنگ میں شفافیت اور تیزی آئے۔
دوسری جانب ایسوسی ایٹڈ چائینیز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری آف ملائشیا کے صدر داتوک نگ یہہ پیئنگ نے بھی پروگرام میں توسیع کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کاروباروں کو قانونی افرادی قوت کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ تاہم انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ منظوری اور ریگولرائزیشن کے عمل کو مزید آسان اور مؤثر بنائے تاکہ آجر بروقت اپنے کارکنوں کو قانونی حیثیت دلا سکیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ کارکنوں کی بڑی تعداد واپس چلی گئی اور ان کی جگہ نئے افراد نہ آئے تو کئی صنعتوں کی پیداوار اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ ان کے مطابق مرحلہ وار اور منظم تبدیلی، مناسب افرادی قوت کے متبادل کے ساتھ، کاروباری اداروں کے لیے زیادہ مفید ثابت ہوگی۔
ادھر ملائشین انڈین ریسٹورنٹ مالکان ایسوسی ایشن کے صدر داتوک جے گونداسامی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ریستورانوں کو مخصوص شرائط کے تحت موجود غیر قانونی غیر ملکی کارکنوں کو قانونی بنانے کی اجازت دی جائے۔
انہوں نے تجویز دی کہ ایسے کارکنوں کو کم از کم دو سال کے لیے متعلقہ ریستوران کے ساتھ منسلک رکھا جائے جبکہ لیوی اور جرمانوں کی ادائیگی آجر کریں۔ انہوں نے چھ ماہ کے خصوصی ریگولرائزیشن اور ورک فورس برقرار رکھنے کے پروگرام کی بھی سفارش کی۔
ان کے مطابق کئی غیر ملکی کارکن مختلف وجوہات کی بنا پر غیر قانونی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں، حالانکہ وہ تربیت یافتہ اور کام کرنے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کارکنوں کو قانونی حیثیت دینے سے حکومت کے ملک بدری اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔
واضح رہے کہ محکمہ امیگریشن ملائشیا نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ مائیگرنٹ ریپیٹری ایشن پروگرام 2.0، جو 30 اپریل 2026 کو ختم ہونا تھا، اب 31 مئی 2027 تک توسیع کر دیا گیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مئی 2025 سے اپریل 2026 کے دوران 112 ممالک سے تعلق رکھنے والے 254,186 غیر قانونی تارکین وطن نے اس پروگرام کے تحت رجسٹریشن کروائی، جبکہ جرمانوں، کمپاؤنڈ اور دیگر فیسوں کی مد میں حکومت کو 127 ملین رنگٹ سے زائد آمدنی حاصل ہوئی۔

COMMENTS