بانتنگ: محکمہ امیگریشن ملائشیا نے ایک ایسے گروہ کو بے نقاب کیا ہے جو واٹس ایپ کے ذریعے انڈونیشیائی شہریوں کو 1500 رنگٹ کے عوض غیر قانونی راس...
بانتنگ: محکمہ امیگریشن ملائشیا نے ایک ایسے گروہ کو بے نقاب کیا ہے جو واٹس ایپ کے ذریعے انڈونیشیائی شہریوں کو 1500 رنگٹ کے عوض غیر قانونی راستوں سے واپس بھیجنے کی پیشکش کر رہا تھا۔ کارروائی پنتائی موریب کے اطراف سمندری راستوں سے متعلق معلومات پر کی گئی۔
امیگریشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (آپریشنز) داتوک لوکمان ایفندی راملی کے مطابق یہ سرگرمی تقریباً ایک ماہ سے جاری تھی۔ مشتبہ افراد ایک رہائشی مکان کو عارضی قیام گاہ کے طور پر استعمال کرتے تھے جہاں سے تارکین وطن کو غیر مجاز راستوں سے باہر بھیجا جاتا تھا۔
خصوصی کارروائی بانتنگ کے ایک رہائشی مکان پر رات 10 بجے شروع کی گئی جس کے نتیجے میں 16 انڈونیشیائی شہریوں کو حراست میں لیا گیا۔ ان میں 11 مرد، تین خواتین اور ایک کم عمر لڑکا شامل ہے۔ ایک 36 سالہ انڈونیشیائی مرد کو مبینہ طور پر ٹرانسپورٹر کے طور پر گرفتار کیا گیا۔
حکام نے چھ انڈونیشیائی پاسپورٹ، ایک موبائل فون اور ایک ہونڈا سٹی گاڑی ضبط کی۔ ٹرانسپورٹر کے خلاف انسانی اسمگلنگ اور تارکین وطن کی غیر قانونی منتقلی سے متعلق قانون کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے، جبکہ دیگر افراد کو امیگریشن قوانین کے تحت مزید تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔

COMMENTS