ملائیشیا کے انسدادِ بدعنوانی ادارے ایم اے سی سی نے اعلان کیا ہے کہ 2026 میں تحقیقات کا مرکز ایسے ایجنٹس اور درمیانی افراد ہوں گے جو رشوت کے ...
ملائیشیا کے انسدادِ بدعنوانی ادارے ایم اے سی سی نے اعلان کیا ہے کہ 2026 میں تحقیقات کا مرکز ایسے ایجنٹس اور درمیانی افراد ہوں گے جو رشوت کے لین دین میں سہولت فراہم کرتے ہیں۔ یہ اقدام شاہی ہدایت کے مطابق کیا جا رہا ہے جس میں سرکاری اداروں میں دیانت داری کو سختی سے نافذ کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
ایم اے سی سی کے ڈپٹی کمشنر آپریشنز داتوک سری احمد خسائری یحییٰ کے مطابق اب صرف بدعنوان اہلکاروں کے بجائے ان افراد کو بھی ہدف بنایا جائے گا جو رشوت کی ادائیگی اور وصولی کے عمل کو منظم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ایجنٹس اور لابیسٹ جو نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو رشوت فراہم کرتے ہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
رپورٹس کے مطابق بعض ایجنٹس مبینہ طور پر “میول اکاؤنٹس” کے ذریعے رقوم کی منتقلی کو چھپانے اور ٹریکنگ سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شاہِ ملائیشیا سلطان ابراہیم نے حالیہ خطاب میں واضح کیا کہ جو اہلکار دیانت داری سے فرائض انجام نہیں دے سکتے انہیں فوری طور پر تبدیل کیا جائے اور بدعنوانی میں سہولت دینے والے درمیانی افراد کو بھی نگرانی میں رکھا جائے۔
شاہی ہدایت میں رائل ملائشیا پولیس، امیگریشن ڈیپارٹمنٹ، رائل ملائشیا کسٹم ڈیپارٹمنٹ اور ایم اے سی سی سمیت تمام اداروں کو دیانت داری کے اعلیٰ معیار برقرار رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ حکمتِ عملی نظامی بدعنوانی کو روکنے کے لیے اہم قدم ہے۔

COMMENTS