کوالالمپور: ملائیشین میڈیکل ایسوسی ایشن نے دارالحکومت میں غیر قانونی طبی مراکز کے انکشاف پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکام سے سخت نگرانی اور...
کوالالمپور: ملائیشین میڈیکل ایسوسی ایشن نے دارالحکومت میں غیر قانونی طبی مراکز کے انکشاف پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکام سے سخت نگرانی اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر تھیروناوُکرَسو راجو کے مطابق بعض غیر ملکی افراد مبینہ طور پر ڈاکٹر بن کر غیر قانونی طور پر طبی خدمات فراہم کر رہے ہیں اور بغیر اجازت کنٹرول شدہ ادویات فروخت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی سرگرمیاں مریضوں کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور غلط تشخیص، غیر مناسب علاج اور غیر محفوظ طریقہ کار کے باعث پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملائیشیا میں طبی عمل سخت ضابطوں کے تحت ہے اور صرف رجسٹرڈ ڈاکٹر ہی قانونی طور پر خدمات فراہم کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق غیر ذمہ دارانہ طبی عمل جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر راجو نے حکام پر زور دیا کہ غیر قانونی طبی مراکز کے خلاف نگرانی اور نفاذ کو مزید مضبوط بنایا جائے کیونکہ پہلے کی کارروائیوں کے باوجود بعض مراکز دوبارہ فعال ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر ان علاقوں میں سخت اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جہاں تارکینِ وطن کی تعداد زیادہ ہے کیونکہ کمزور طبقات اکثر ایسے مراکز کا نشانہ بنتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاملہ کسی مخصوص گروہ کے خلاف نہیں بلکہ عوام کے تحفظ سے متعلق ہے۔ ان کے مطابق ہر فرد کو محفوظ اور قانونی طبی سہولیات تک رسائی کا حق حاصل ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ کارروائی میں امیگریشن حکام نے ایک علاقے میں قائم نو غیر قانونی طبی مراکز پر چھاپے مارے۔ ان مراکز سے کنٹرول شدہ ادویات برآمد ہوئیں جن میں ذہنی دباؤ، جراثیمی انفیکشن اور دائمی امراض کی ادویات شامل تھیں۔
حکام نے مزید بتایا کہ متعدد افراد کو غیر قانونی سرگرمیوں اور درست دستاویزات نہ ہونے پر حراست میں لیا گیا جبکہ وزارت صحت اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

COMMENTS