ملائیشیا کے شہر پیتالنگ جایا میں قائم ایک کیفے کے مالک نے زبان کی رکاوٹ کے باعث پیش آنے والے واقعے کے بعد صارفین سے صبر اور نرمی اختیار کرنے...
ملائیشیا کے شہر پیتالنگ جایا میں قائم ایک کیفے کے مالک نے زبان کی رکاوٹ کے باعث پیش آنے والے واقعے کے بعد صارفین سے صبر اور نرمی اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ ایک مقامی گاہک کی جانب سے غیر ملکی ویٹر کو سخت الفاظ کہنے کے واقعے کے بعد ریسٹورنٹ مالک نے سوشل میڈیا پر اپنے تجربات شیئر کیے۔
کیفے کے مالک کے مطابق مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے عملے کے ساتھ کام کرتے وقت زبان سب سے بڑا چیلنج بنتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عملے کو ہدایات دینے کے لیے انہیں اکثر انگریزی، ملے اور کینٹونیز زبانیں ایک ساتھ استعمال کرنا پڑتی ہیں تاکہ ہر فرد بات سمجھ سکے۔
انہوں نے کہا کہ میانمار اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے کارکن نئی زبان سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، جس کے باعث روزمرہ گفتگو میں غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے عملے کو بنیادی تربیت دی جا رہی ہے تاکہ وہ صارفین کو بہتر اور تیز سروس فراہم کر سکیں۔
کیفے مالک نے بتایا کہ ایک موقع پر انہوں نے ایک گاہک کو ویٹر کو سخت الفاظ کہتے سنا، جس سے وہ متاثر ہوئے۔ ان کے مطابق ایسے الفاظ کارکنوں پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں، خصوصاً ان افراد پر جو اپنے خاندانوں کی کفالت کے لیے دوسرے ملک میں کام کر رہے ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کاروباری ادارے تربیت جاری رکھیں گے، تاہم صارفین کا مثبت رویہ بھی کام کے ماحول کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ان کے مطابق تھوڑا صبر اور نرم لہجہ کارکنوں کے لیے بڑی حوصلہ افزائی بن سکتا ہے۔
یہ پوسٹ سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہوئی اور صارفین نے غیر ملکی کارکنوں کے ساتھ احترام اور تعاون کے پیغام کو سراہا۔

COMMENTS