سعودی عرب نے لیبر مارکیٹ کو منظم کرنے اور غیر قانونی ملازمت کے خاتمے کے لیے نئے جرمانے متعارف کروا دیے ہیں۔ حکام کے مطابق ایسے آجر جو غیر مل...
سعودی عرب نے لیبر مارکیٹ کو منظم کرنے اور غیر قانونی ملازمت کے خاتمے کے لیے نئے جرمانے متعارف کروا دیے ہیں۔ حکام کے مطابق ایسے آجر جو غیر ملکی کارکنوں کو درست ورک پرمٹ کے بغیر ملازمت دیں گے، ان پر 10 ہزار سعودی ریال جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
وزارت انسانی وسائل و سماجی ترقی نے کہا ہے کہ ان اصلاحات کا مقصد مزدوروں کے حقوق کا تحفظ اور روزگار کے موجودہ قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔ نئی ترامیم کے تحت غیر دستاویزی معاہدے، غیر قانونی بھرتی، کم عمر بچوں سے مزدوری، پاسپورٹ ضبط کرنا اور زچگی و بچوں کی دیکھ بھال سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی قابل سزا ہوں گی۔
حکام کے مطابق اگر آجر کارکن کے معاہدے کو ڈیجیٹل طور پر رجسٹر نہ کرے تو فی کارکن ایک ہزار ریال جرمانہ ہوگا۔ 15 سال سے کم عمر بچوں کی ملازمت کو جرم قرار دیا گیا ہے، جبکہ 50 یا اس سے زائد ملازمین رکھنے والی کمپنیوں پر بھاری جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
مزید برآں کسی کارکن کا پاسپورٹ یا رہائشی دستاویز ضبط کرنے پر فی کارکن تین ہزار ریال جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔ غیر مجاز بھرتی کے مقدمات میں پہلی خلاف ورزی پر کم از کم دو لاکھ ریال جرمانہ ہوگا، جو بار بار خلاف ورزی پر مزید بڑھ سکتا ہے۔
حکام نے بتایا کہ یہ اقدامات لیبر نظام میں شفافیت بڑھانے اور غیر قانونی بھرتی کی حوصلہ شکنی کے لیے کیے گئے ہیں۔

COMMENTS