ملائیشیا میں حکام نے غیر ملکی گھریلو ملازمین کے ایک مبینہ منظم گروہ کی تحقیقات تیز کر دی ہیں۔ الزام ہے کہ یہ افراد گھروں تک رسائی کا فائدہ ا...
ملائیشیا میں حکام نے غیر ملکی گھریلو ملازمین کے ایک مبینہ منظم گروہ کی تحقیقات تیز کر دی ہیں۔ الزام ہے کہ یہ افراد گھروں تک رسائی کا فائدہ اٹھا کر کم عمر بچوں کو جنسی بدسلوکی اور ذہنی دباؤ کا نشانہ بناتے رہے۔
رپورٹ کے مطابق متاثرہ خاندانوں نے اس وقت معاملہ رپورٹ کیا جب بچوں کے رویّے میں غیر معمولی تبدیلیاں سامنے آئیں۔ ایک خاندان نے بتایا کہ موبائل فون پر نصب “اسپائی ویئر” کے ذریعے حاصل ویڈیوز میں ایک نامعلوم شخص کو گھر میں داخل ہوتے دیکھا گیا۔ بعد ازاں شواہد سے دو سالہ بچے کے ساتھ بدسلوکی کا انکشاف ہوا۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ بڑے بچوں کو مبینہ طور پر ڈرا دھمکا کر خاموش رکھا جاتا تھا جبکہ کم عمر اور بولنے سے پہلے کی عمر کے بچوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جاتا تھا۔ حکام کے مطابق کیس ابھی زیرِ تفتیش ہے اور گرفتار مشتبہ فرد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق بچوں میں اچانک خوف، بے چینی اور جارحانہ رویّہ ایسے واقعات کی ابتدائی نشانیاں ہو سکتی ہیں۔ حکام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ بچوں کے رویّے میں غیر معمولی تبدیلی نظر آئے تو فوراً اطلاع دیں۔

COMMENTS