کوالالمپور: انسدادِ بدعنوانی ادارے نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران مبینہ طور پر 1 کروڑ 20 لاکھ رنگٹ رشوت کی رقم جعلی یا بے نامی اکاؤنٹس کے ذری...
کوالالمپور: انسدادِ بدعنوانی ادارے نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران مبینہ طور پر 1 کروڑ 20 لاکھ رنگٹ رشوت کی رقم جعلی یا بے نامی اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل کیے جانے کا انکشاف کیا ہے۔ یہ کارروائی “اوپس مڈل مین” کے تحت عمل میں آئی، جس میں نفاذی اہلکاروں اور ٹرانسپورٹ مڈل مین کے درمیان منظم گٹھ جوڑ سامنے آیا ہے۔
ملائشین اینٹی کرپشن کمیشن کے چیف کمشنر تن سری اعظم باقی نے بدھ کے روز ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ یہ مشتبہ لین دین 2021 سے جاری تھا۔ ان کے مطابق یہ رقوم اس مقصد کے لیے ادا کی جاتی تھیں کہ کمرشل گاڑیاں ڈیوٹی پر موجود نفاذی افسران کی قانونی کارروائی سے بچ سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران 59 انفرادی بینک اکاؤنٹس منجمد کیے گئے، جنہیں میول اکاؤنٹس کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ ان اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر 77 لاکھ رنگٹ موجود تھے۔ اعظم باقی کے مطابق اس کیس میں اب تک 18 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور ہر ملزم کے خلاف الگ الگ تفتیشی فائل کھولی گئی ہے۔
گرفتار ہونے والوں میں چار افسران روڈ ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ (جے پی جے) سے اور چار ٹریفک پولیس اہلکار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دو کمپنی مالکان کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ ’تونتو‘ یعنی ایسے درمیانی کردار تھے جو غیر قانونی ادائیگیوں کو سہولت فراہم کرتے تھے۔ ایک میول اکاؤنٹ ہولڈر کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
چیف کمشنر نے مزید انکشاف کیا کہ کارروائی کے دوران مختلف کرنسیوں میں 3 لاکھ 26 ہزار 625 رنگٹ نقد رقم برآمد کی گئی، جبکہ تقریباً 25 لگژری گاڑیاں جن کی مالیت 25 لاکھ رنگٹ بتائی جاتی ہے، ضبط کر لی گئیں۔ اس کے علاوہ 40 ہزار رنگٹ مالیت کے زیورات بھی قبضے میں لیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس نیٹ ورک کے تانے بانے صرف محکمہ ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں ہو سکتے، اسی لیے محکمہ جلد ہی رائل ملائشیا پولیس کے کرمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا۔ اعظم باقی نے بتایا کہ انہوں نے سی آئی ڈی کے ڈائریکٹر داتوک ایم کمار سے رابطہ کیا ہے اور جلد ملاقات متوقع ہے تاکہ تحقیقات کو مزید وسعت دی جا سکے۔
اس کارروائی کے ساتھ ہی ایک اور اہم پیش رفت “اوپس گاڈ فادر” کے نام سے جاری علیحدہ تحقیقات میں سامنے آئی ہے۔ اعظم باقی نے تصدیق کی کہ مرحوم سیاست دان اور کاروباری شخصیت دیئم ذین الدین کے بیٹے، محمد ویرا دانی نے محکمہ سے رابطہ کیا ہے۔ یہ تحقیقات مبینہ مالی بے ضابطگیوں سے متعلق ہیں۔
اعظم باقی کے مطابق چار ملائیشین شہریوں کی تلاش کے لیے عوامی مدد طلب کی گئی تھی، جو اس کیس میں معاون تفتیش کے لیے مطلوب ہیں۔ ان میں سے ایک نے ادارے سے رابطہ کیا ہے، تاہم باقی تین افراد کا تاحال کوئی سراغ نہیں ملا۔ امیگریشن ریکارڈ کے مطابق یہ افراد جنوری کے اختتام اور فروری کے آغاز میں ملک سے باہر روانہ ہوئے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ “اوپس مڈل مین” ایک منظم بدعنوانی اسکیم کی عکاسی کرتا ہے جس میں نفاذی اہلکاروں اور نجی شعبے کے عناصر کے درمیان باقاعدہ مالی لین دین کے ذریعے قانون سے بچنے کا راستہ نکالا جاتا تھا۔ ماہرین کے مطابق میول اکاؤنٹس کا استعمال مالی ٹریس کو پیچیدہ بنانے کے لیے کیا جاتا ہے، جس سے اصل فائدہ اٹھانے والوں تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔
محکمہ نے واضح کیا ہے کہ بدعنوانی کے خلاف کارروائیاں بغیر کسی رعایت کے جاری رہیں گی، چاہے اس میں سرکاری اہلکار ہوں یا نجی شعبے کے بااثر افراد۔ ادارے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ مشتبہ مالی سرگرمیوں یا رشوت ستانی سے متعلق معلومات فراہم کر کے تحقیقات میں تعاون کریں۔

COMMENTS