سائبر جایا: آن لائن فراڈ میں ملوث گروہ صرف چند منٹوں کے اندر متاثرہ افراد کی زندگی بھر کی جمع پونجی کا بڑا حصہ صاف کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔...
سائبر جایا: آن لائن فراڈ میں ملوث گروہ صرف چند منٹوں کے اندر متاثرہ افراد کی زندگی بھر کی جمع پونجی کا بڑا حصہ صاف کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس انکشاف نے عوام میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے کیونکہ جدید ٹیکنالوجی کے باوجود مالیاتی جرائم تیزی سے پیچیدہ اور منظم ہوتے جا رہے ہیں۔
ملائیشیا کے وزیر داخلہ سیف الدین ناسوشن اسمعیل نے بتایا کہ اسکیمر گروہ عموماً تین سے 10 منٹ کے مختصر وقت میں متاثرہ شخص کے بینک اکاؤنٹ سے 80 سے 90 فیصد تک رقم مختلف اکاؤنٹس میں منتقل کر دیتے ہیں۔ یہ منتقلی ایک منظم اور تہہ در تہہ نیٹ ورک کے ذریعے کی جاتی ہے جس میں متعدد بینک اکاؤنٹس استعمال ہوتے ہیں تاکہ اصل رقم کا سراغ لگانا مشکل ہو جائے۔
ان کے مطابق فراڈیے ایک خاص حکمت عملی اپناتے ہیں جس کے تحت وہ بڑی رقم کو ایک ہی ٹرانزیکشن میں منتقل کرنے کے بجائے اسے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر دیتے ہیں۔ عام طور پر ہر ٹرانزیکشن کی مالیت ایک ہزار سے تین ہزار رنگٹ کے درمیان رکھی جاتی ہے۔ اس طریقہ کار کا مقصد بینکوں کے خودکار سیکیورٹی سسٹمز کو چکمہ دینا ہوتا ہے، کیونکہ زیادہ تر بینکنگ نظام بڑی اور غیر معمولی رقوم کی منتقلی پر فوری الرٹ جاری کرتے ہیں، جب کہ چھوٹی رقوم بسا اوقات ابتدائی مرحلے میں مشکوک قرار نہیں پاتیں۔
وزیر داخلہ نے وضاحت کی کہ جیسے ہی متاثرہ شخص دھوکے میں آ کر اپنی بینک تفصیلات یا ون ٹائم پاس ورڈ (او ٹی پی) فراہم کرتا ہے، اس کے بعد اسکیمر چند منٹوں کے اندر متعدد ٹرانزیکشنز انجام دے دیتے ہیں۔ یہ رقوم مختلف “لیئرز” یا پرتوں والے اکاؤنٹس میں منتقل کی جاتی ہیں۔ ہر پرت دراصل ایک الگ اکاؤنٹ ہوتا ہے جو یا تو کسی اور فرد کے نام پر کھولا گیا ہوتا ہے یا کسی جعلی شناخت کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے۔ اس طرح جب تک متاثرہ شخص بینک یا متعلقہ حکام کو اطلاع دیتا ہے، زیادہ تر رقم کئی اکاؤنٹس کے درمیان گردش کر چکی ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب ٹرانزیکشن کئی مراحل میں مکمل ہوتی ہے تو تفتیشی اداروں کو ہر اکاؤنٹ کی الگ سے جانچ پڑتال کرنا پڑتی ہے۔ اس عمل میں وقت لگتا ہے اور اکثر رقم بیرونِ ملک منتقل ہو چکی ہوتی ہے یا کیش کی صورت میں نکال لی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تحقیقات پیچیدہ ہو جاتی ہیں اور متاثرین کو اپنی رقم واپس ملنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
سائبر کرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں یہ بیان اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ فراڈ کے طریقے روایتی ہتھکنڈوں سے کہیں زیادہ جدید ہو چکے ہیں۔ اسکیمر سوشل میڈیا، جعلی کالز، فشنگ لنکس اور ای کامرس پلیٹ فارمز کے ذریعے شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ اکثر متاثرین کو سرکاری اداروں، بینک افسران یا آن لائن سروس فراہم کرنے والوں کے نام سے کال یا پیغام موصول ہوتا ہے، جس میں انہیں فوری کارروائی کا جھانسہ دیا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام کو چاہیے کہ وہ کسی بھی مشکوک کال یا لنک پر فوری ردعمل دینے کے بجائے تصدیق کریں۔ بینک کبھی بھی فون کال یا میسج کے ذریعے مکمل پاس ورڈ یا او ٹی پی طلب نہیں کرتے۔ اگر کسی کو مشتبہ سرگرمی کا علم ہو تو فوری طور پر اپنے بینک کی ہاٹ لائن پر رابطہ کرنا چاہیے تاکہ اکاؤنٹ کو عارضی طور پر منجمد کیا جا سکے۔
حکام کے مطابق حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بینکوں کے ساتھ مل کر سیکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنانے پر کام کر رہے ہیں۔ اس میں ریئل ٹائم مانیٹرنگ، مشکوک اکاؤنٹس کی فوری معطلی اور عوامی آگاہی مہمات شامل ہیں۔ تاہم شہریوں کی احتیاط بھی اس جنگ میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
وزیر داخلہ نے اس بات پر زور دیا کہ آن لائن فراڈ ایک سنجیدہ قومی مسئلہ بنتا جا رہا ہے اور اس کے تدارک کے لیے مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ذاتی معلومات شیئر کرنے میں انتہائی محتاط رہیں اور کسی بھی غیر معمولی مالی سرگرمی کی صورت میں فوری اطلاع دیں۔

COMMENTS