کوالالمپور: سری ہرتاماس سے تعلق رکھنے والی ایک 34 سالہ خاتون ڈینٹسٹ جعلی پولیس افسر بن کر کیے گئے ایک منظم فراڈ کا نشانہ بن گئی۔ متاثرہ خاتو...
کوالالمپور: سری ہرتاماس سے تعلق رکھنے والی ایک 34 سالہ خاتون ڈینٹسٹ جعلی پولیس افسر بن کر کیے گئے ایک منظم فراڈ کا نشانہ بن گئی۔ متاثرہ خاتون نے مجموعی طور پر 15 ہزار رنگٹ منتقل کیے، جس کے بعد معاملہ پولیس تک پہنچایا گیا۔
ضلع برک فیلڈز کے پولیس چیف اسسٹنٹ کمشنر ہو چانگ ہوک کے مطابق یہ واقعہ ایک ایسے فراڈ کا حصہ ہے جس میں ملزمان خود کو پولیس افسر ظاہر کر کے شہریوں کو خوفزدہ کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ خاتون کو گزشتہ سال نومبر سے نامعلوم نمبروں سے بار بار کالز موصول ہونا شروع ہوئیں۔
پولیس کے مطابق 28 نومبر 2025 کو ایک شخص نے خاتون سے رابطہ کیا اور خود کو پولیس افسر ظاہر کیا۔ اس شخص نے دعویٰ کیا کہ خاتون مبینہ غیر قانونی مالی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ کال کرنے والے نے کہا کہ اس کے خلاف مقدمہ درج ہے اور اسے فوری طور پر تعاون کرنا ہوگا۔
چند دن بعد مختلف نمبروں سے مزید کالز آئیں۔ ایک اور شخص نے خود کو پرلس کے کانگر ڈسٹرکٹ پولیس ہیڈکوارٹر کا سینئر افسر ظاہر کیا۔ ملزم نے اسسٹنٹ کمشنر کا عہدہ استعمال کرتے ہوئے متاثرہ خاتون پر دباؤ ڈالا کہ اگر وہ معاملہ “حل” کرنا چاہتی ہے تو فوری ادائیگی کرے۔
اسسٹنٹ کمشنر ہو چانگ ہوک کے مطابق متاثرہ خاتون خوف اور گھبراہٹ کا شکار ہو گئی۔ اسے بتایا گیا کہ اگر اس نے ہدایات پر عمل نہ کیا تو اسے گرفتار کر لیا جائے گا۔ ملزم نے خاتون کو روزانہ واٹس ایپ کے ذریعے رپورٹ کرنے اور ذاتی معلومات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔
پولیس کے بیان کے مطابق متاثرہ خاتون نے پہلے 10 ہزار رنگٹ ایک بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیے جو ملزم نے فراہم کیا تھا۔ اس کے بعد مزید 5 ہزار رنگٹ ایک ای والٹ اکاؤنٹ میں بھیج دیے گئے۔ یوں مجموعی نقصان 15 ہزار رنگٹ تک پہنچ گیا۔
حکام کے مطابق متاثرہ خاتون کو فراڈ کا احساس اس وقت ہوا جب اس نے اپنی والدہ سے اس معاملے پر بات کی۔ ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا کہ ملزم مسلسل دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے خاتون کو قابو میں رکھے ہوئے تھا۔ اسے روزانہ واٹس ایپ پر رابطہ کرنے کا پابند بنایا گیا تھا تاکہ وہ کسی اور سے مشورہ نہ کر سکے۔
پولیس نے بتایا کہ یہ کیس تعزیراتِ فوجداری کی دفعہ 420 کے تحت درج کیا گیا ہے، جو دھوکا دہی سے متعلق ہے۔ تحقیقات جاری ہیں اور حکام متعلقہ بینک اکاؤنٹس اور ای والٹ ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ حاصل کر رہے ہیں تاکہ ملزمان تک پہنچا جا سکے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ایسے فراڈ میں عموماً ملزمان خود کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کا افسر ظاہر کرتے ہیں۔ وہ متاثرہ افراد کو یہ باور کراتے ہیں کہ ان کے خلاف سنگین مقدمات درج ہیں، جس کے بعد گرفتاری کے خوف سے متاثرہ شخص جلد بازی میں رقم منتقل کر دیتا ہے۔
حکام نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ اگر کوئی خود کو پولیس افسر ظاہر کر کے فون کرے اور رقم یا ذاتی معلومات طلب کرے تو فوری طور پر قریبی تھانے سے تصدیق کریں۔ پولیس کے مطابق کسی بھی سرکاری تفتیش میں فون پر ادائیگی یا ذاتی بینک تفصیلات طلب نہیں کی جاتیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہریوں کو چاہیے کہ وہ نامعلوم نمبروں سے موصول ہونے والی کالز پر محتاط رہیں، خاص طور پر جب کال کرنے والا گرفتاری یا قانونی کارروائی کی دھمکی دے۔ ایسے معاملات میں سکون سے کام لینا اور اہل خانہ یا متعلقہ ادارے سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
آن لائن اور فون کال کے ذریعے ہونے والے فراڈ کے طریقے مسلسل تبدیل ہو رہے ہیں۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ اپنی مالی معلومات اور شناختی تفصیلات کسی بھی غیر مصدقہ شخص کے ساتھ شیئر نہ کریں۔

COMMENTS