ملائیشیا کے وزیرِ داخلہ سیف الدین ناسوشن نے کہا ہے کہ سال 2023 سے اب تک ملائیشیا میں 15 ہزار سے زائد غیر ملکی شہریوں کو اس وجہ سے گرفتار کیا...
ملائیشیا کے وزیرِ داخلہ سیف الدین ناسوشن نے کہا ہے کہ سال 2023 سے اب تک ملائیشیا میں 15 ہزار سے زائد غیر ملکی شہریوں کو اس وجہ سے گرفتار کیا گیا ہے کہ انہوں نے وزٹ پاس یا دیگر داخلہ اجازت ناموں کا غلط استعمال کیا، یا ان کی شرائط کی خلاف ورزی کی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ انکشاف ملائیشیا کے شہر ملاکہ میں ایک تقریب کے دوران کیا گیا، جہاں وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ غیر ملکیوں کی بڑی تعداد کو اس لیے حراست میں لیا گیا کیونکہ وہ وزٹ پاس پر ملک میں داخل ہوئے مگر بعد میں غیر قانونی طور پر ملازمت یا کاروبار کرنے لگے۔
وزیرِ داخلہ کے مطابق سال 2023 سے لے کر 3 مارچ 2026 تک مجموعی طور پر 15 ہزار 349 غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لیا گیا۔ ان میں سے 2 ہزار 233 افراد کو سال 2023 میں گرفتار کیا گیا، جبکہ سال 2024 میں یہ تعداد بڑھ کر 5 ہزار 123 ہو گئی۔ اسی طرح سال 2025 میں 6 ہزار 872 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیا گیا، جبکہ سال 2026 میں 3 مارچ تک مزید 1 ہزار 121 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
حکام کے مطابق گرفتار ہونے والے افراد میں سب سے زیادہ تعداد پانچ ممالک کے شہریوں کی ہے، جن میں بنگلہ دیش، تھائی لینڈ، انڈونیشیا، چین اور پاکستان شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد نے زیادہ تر وزٹ پاس کے تحت ملائیشیا میں داخل ہو کر غیر قانونی طور پر ملازمت یا کاروباری سرگرمیاں شروع کر دیں۔
وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ اس بڑھتے ہوئے رجحان نے خاص طور پر کاروباری حلقوں اور تجارتی اداروں میں تشویش پیدا کی ہے۔ اسی وجہ سے اس مسئلے پر کابینہ کی سطح پر بھی غور کیا گیا اور اس کے بعد ملائیشیا کے امیگریشن حکام کو مزید سخت اقدامات کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ملائیشیا کے امیگریشن حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ملک بھر میں نگرانی اور کارروائیوں کو مزید مضبوط بنائیں تاکہ داخلہ قوانین کی خلاف ورزی کو روکا جا سکے اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کی جا سکے۔
اس موقع پر وزیرِ داخلہ نے یہ بھی بتایا کہ رمضان کے دوران مختلف بازاروں اور عوامی مقامات پر خصوصی آپریشن کیے جا رہے ہیں۔ ان کارروائیوں کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ تمام غیر ملکی شہری امیگریشن قوانین کی مکمل پابندی کریں۔
حکام کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران انڈونیشیا، بنگلہ دیش، میانمار، پاکستان، کمبوڈیا، تھائی لینڈ اور یمن کے مجموعی طور پر 68 شہریوں کو حراست میں لیا گیا۔ ان افراد کو مختلف خلاف ورزیوں پر گرفتار کیا گیا جن میں بغیر پاسپورٹ یا قانونی دستاویز کے ملک میں موجود ہونا، ویزا کی مدت ختم ہونے کے باوجود قیام کرنا، اور پاس کی شرائط کی خلاف ورزی شامل ہے۔
امیگریشن حکام کے مطابق ان افراد کے خلاف کارروائی ملائیشیا کے امیگریشن ایکٹ 1959/63 کے تحت کی گئی ہے۔ اس قانون کے مطابق ملک میں بغیر قانونی دستاویز کے رہائش، ویزا کی مدت سے زیادہ قیام اور پاس کی شرائط کی خلاف ورزی قابلِ سزا جرائم ہیں۔
وزیرِ داخلہ نے کہا کہ رمضان کے دوران بھی امیگریشن حکام کی کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ملک میں امیگریشن قوانین کی مکمل پاسداری ہو اور کسی کو بھی غیر قانونی سرگرمیوں کی اجازت نہ دی جائے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت کو توقع ہے کہ غیر قانونی تارکینِ وطن کی واپسی کے لیے جاری پروگرام ریپیٹری ایشن پروگرام مائیگرن 2.0 میں شرکت کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ یہ پروگرام غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو رضاکارانہ طور پر اپنے وطن واپس جانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
حکام کے مطابق 19 مئی 2025 سے 3 مارچ 2026 تک اس پروگرام کے تحت 187 ہزار 858 غیر ملکی شہریوں نے رجسٹریشن کروائی ہے۔ یہ افراد دنیا کے 106 مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔
اس پروگرام کے تحت ملائیشیا کو اب تک تقریباً 93 ملین رنگٹ سے زائد کی آمدن حاصل ہو چکی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کا مقصد ملک میں غیر قانونی قیام کو کم کرنا اور امیگریشن نظام کو مزید منظم بنانا ہے۔
ماہرین کے مطابق امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد نہ صرف ملک کی سکیورٹی کے لیے ضروری ہے بلکہ اس سے مقامی کاروباری ماحول کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ بھی ایسے اقدامات جاری رکھے جائیں گے تاکہ امیگریشن نظام کی شفافیت اور قومی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

COMMENTS