کوالالمپور: ملائیشیا کے وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کم از کم مئی 2026 تک محفوظ ہے، جبکہ حکومت مشر...
کوالالمپور: ملائیشیا کے وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کم از کم مئی 2026 تک محفوظ ہے، جبکہ حکومت مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے باعث تیل کی عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
وزیر اعظم انور ابراہیم نے بدھ کو ایک خصوصی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک میں ایندھن کی فراہمی کے حوالے سے صورت حال پر مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور عوام کو کسی بھی قسم کی قلت کے بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ پیٹرول اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے مکمل تیاری رکھیں۔ ان کے مطابق موجودہ ذخائر اور سپلائی چین کے باعث ملک میں کم از کم مئی 2026 تک ایندھن کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ نہیں۔
وزیر اعظم نے بتایا کہ حکومت نے ایک خصوصی پینل بھی تشکیل دیا ہے جو روزانہ کی بنیاد پر مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا جائزہ لے گا۔ اس پینل کی قیادت وزیر خزانہ دوم عامر حمزہ عزیزان کریں گے اور یہ کمیٹی حکومت کو مسلسل رپورٹ پیش کرے گی تاکہ بروقت فیصلے کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور توانائی کی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے باعث حکومت صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق اگر عالمی حالات مزید خراب ہوتے ہیں تو حکومت متبادل حکمت عملی اختیار کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت سرحدی علاقوں میں ڈیزل اسمگلنگ کے خلاف کارروائی مزید سخت کرے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جو موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔
انہوں نے مزید اعلان کیا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مقبول ترین سبسڈی شدہ پیٹرول رون 95 کی قیمت 1.99 رنگٹ فی لیٹر برقرار رکھے گی۔
وزیر اعظم کے مطابق موجودہ معاشی حالات کے پیش نظر حکومت نے فوری طور پر اخراجات میں کمی کے اقدامات بھی شروع کر دیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری ادارے عیدالفطر کے موقع پر سرکاری سطح پر منعقد ہونے والی روایتی عید اوپن ہاؤس تقریبات منعقد نہیں کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزرا اور اعلیٰ سرکاری حکام کو غیر ضروری بیرون ملک دوروں سے بھی گریز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ صرف وہی دورے کیے جائیں گے جو پہلے سے طے شدہ ہوں یا انتہائی ضروری ہوں۔
انہوں نے وزرا، سرکاری اداروں اور سرکاری کمپنیوں کو بھی ہدایت دی کہ وہ اخراجات میں احتیاط اور اعتدال اختیار کریں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں محتاط مالیاتی پالیسی اپنانا ضروری ہے تاکہ ملک کو ممکنہ معاشی دباؤ سے بچایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ عوام پر غیر ضروری بوجھ نہ پڑے اور ملک کی معیشت مستحکم رہے۔ ان کے مطابق محتاط مالیاتی نظم و ضبط اپنانا موجودہ عالمی حالات میں ایک دانشمندانہ قدم ہے۔
وزیر اعظم نے بتایا کہ حکومت ملک کی مالی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے جمعہ کو ایک خصوصی کابینہ اجلاس بھی منعقد کرے گی۔ اس اجلاس میں موجودہ معاشی صورتحال اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد خلیج میں واقع اہم بحری راستہ آبنائے ہرمز متاثر ہوا جس کے باعث عالمی توانائی کی منڈی میں تشویش پیدا ہوئی۔
یہ بحری راستہ عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے اور دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ توانائی کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔
عالمی مارکیٹ میں اس کشیدگی کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ ایک موقع پر خام تیل کی قیمت تقریباً 120 امریکی ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، تاہم بعد ازاں اس میں کمی آئی اور قیمت تقریباً 89 امریکی ڈالر فی بیرل کے قریب رہی۔
ماہرین کے مطابق عالمی توانائی کی منڈی میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہ سکتی ہے، تاہم ملائیشیا کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

COMMENTS