ملائیشیا میں ملازمین کے ریٹائرمنٹ فنڈ سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ایمپلائیز پراویڈنٹ فنڈ ملائشیا نے انکشاف کیا ہے کہ سال 2025 کے ...
ملائیشیا میں ملازمین کے ریٹائرمنٹ فنڈ سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ایمپلائیز پراویڈنٹ فنڈ ملائشیا نے انکشاف کیا ہے کہ سال 2025 کے دوران 2,257 کمپنی ڈائریکٹرز کو بیرونِ ملک سفر کرنے سے روک دیا گیا۔ یہ پابندی ان ڈائریکٹرز پر اس وجہ سے عائد کی گئی کیونکہ انہوں نے اپنے ملازمین کے لیے لازمی فنڈ کی ادائیگی نہیں کی تھی۔
حکام کے مطابق اس کارروائی کے بعد دسمبر 2025 تک مجموعی طور پر 14,332 کمپنی ڈائریکٹرز ایسے ہیں جن پر ملک سے باہر جانے پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ یہ پابندیاں ایمپلائیز پراویڈنٹ فنڈ ایکٹ 1991 کی دفعہ 39 کے تحت لگائی جاتی ہیں۔
بیان کے مطابق یہ اقدام اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ آجر اپنے ملازمین کے ریٹائرمنٹ فنڈ میں باقاعدگی سے حصہ جمع کرائیں اور کارکنوں کے مالی حقوق محفوظ رہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر آجر اپنی ذمہ داری پوری نہ کریں تو ان کے خلاف مختلف قانونی کارروائیاں کی جا سکتی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران ایمپلائیز پراویڈنٹ فنڈ ملائشیا نے ایسے آجروں کے خلاف 3,530 سول مقدمات بھی دائر کیے جبکہ 6,011 فوجداری کارروائیاں کی گئیں۔ یہ اقدامات ان کمپنی ڈائریکٹرز اور آجروں کے خلاف کیے گئے جو ملازمین کے فنڈ کی ادائیگی میں ناکام رہے تھے۔
ادارے کی چیف آپریٹنگ آفیسر سزالیزا ذین الدین نے کہا کہ تمام آجروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ قانون کے مطابق ملازمین کے فنڈ میں حصہ جمع کرائیں۔ ان کے مطابق یہ ذمہ داری ایمپلائیز پراویڈنٹ فنڈ ایکٹ 1991 کی دفعہ 43(1) کے تحت واضح طور پر طے کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی آجر اس ذمہ داری کو پورا نہیں کرتا تو اس کے خلاف سخت کارروائی ہو سکتی ہے۔ اس میں سول مقدمات، فوجداری کارروائی اور بیرونِ ملک سفر پر پابندی جیسے اقدامات شامل ہیں۔
ادارے کے مطابق ملازمین کے ریٹائرمنٹ فنڈ میں بروقت ادائیگی نہ صرف کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ ان کے مستقبل کے مالی استحکام کے لیے بھی اہم ہے۔ اگر یہ ادائیگیاں باقاعدگی سے نہ ہوں تو کارکنوں کی ریٹائرمنٹ بچت متاثر ہو سکتی ہے۔
حکام کے مطابق 2025 کے دوران ادارے کو ملازمین کی جانب سے مجموعی طور پر 21,029 شکایات موصول ہوئیں۔ ان میں سے 8,868 کیسز کو حل کر لیا گیا ہے جبکہ 12,161 کیسز ابھی بھی تحقیقات اور قانونی کارروائی کے مراحل میں ہیں۔
ادارے کا کہنا ہے کہ ہر شکایت کی مکمل تحقیقات کی جاتی ہیں تاکہ ملازمین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے ادارہ آجروں کی سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی بھی کرتا ہے۔
ملازمین کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے فنڈ کی تفصیلات باقاعدگی سے چیک کرتے رہیں۔ اس مقصد کے لیے کے ڈبلیو ایس پی، آئی اکاؤنٹ ایپلی کیشن استعمال کی جا سکتی ہے جس کے ذریعے ملازمین یہ دیکھ سکتے ہیں کہ ان کے آجر نے فنڈ کی ادائیگی وقت پر کی ہے یا نہیں۔
اگر کسی ملازم کو ادائیگی میں کوئی مسئلہ نظر آئے تو اسے فوری طور پر اپنے آجر سے رابطہ کرنا چاہیے۔ اگر آجر مسئلہ حل نہ کرے تو ملازم قریبی ایمپلائیز پراویڈنٹ فنڈ ملائشیا دفتر جا کر شکایت درج کرا سکتا ہے۔
حکام کے مطابق شکایت درج کراتے وقت ملازمین کو متعلقہ دستاویزات فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ان دستاویزات میں ملازمت کا خط، تنخواہ کی سلپ یا دیگر متعلقہ ریکارڈ شامل ہو سکتے ہیں۔
ادارے نے آجروں کو بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ آئی اکاؤنٹ ماجیکان پلیٹ فارم استعمال کریں تاکہ وہ اپنے ملازمین کی فہرست، ادا کی گئی رقم اور ادائیگی کی تاریخوں کا ریکارڈ باآسانی چیک کر سکیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر کسی آجر کو ادائیگی کے حوالے سے کوئی مسئلہ درپیش ہو تو وہ قریبی دفتر سے رابطہ کر کے معاملہ حل کر سکتا ہے۔ ادارہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گا کہ تمام آجر قانون کے مطابق اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

COMMENTS