جوہر بہرو: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے جوہر کے صنعتی علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے 354 غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کر لیا۔ یہ کارروائی ...
جوہر بہرو: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے جوہر کے صنعتی علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے 354 غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کر لیا۔ یہ کارروائی ایک کمپیوٹر پرزہ جات بنانے والی فیکٹری میں کی گئی جہاں بڑی تعداد میں غیر ملکی کارکنان بغیر قانونی دستاویزات کے کام کر رہے تھے۔
یہ آپریشن محکمہ امیگریشن ملائشیا کی جانب سے اوپس ماہر کے تحت کیا گیا۔ کارروائی تبراؤ انڈسٹریل ایریا میں واقع ایک فیکٹری پر کی گئی۔
جوہر امیگریشن کے ڈائریکٹر محمد رسدی محمد داروس کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد میں مختلف ممالک کے شہری شامل ہیں۔ ان میں 299 افراد میانمار کے، 26 بنگلہ دیشی، 22 بھارتی، تین انڈونیشیائی اور دو نیپالی شہری شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک پاکستانی اور ایک فلپائنی شہری بھی گرفتار ہونے والوں میں شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ تمام افراد کی عمریں تقریباً 18 سے 46 سال کے درمیان ہیں۔
حکام کے مطابق یہ آپریشن رات تقریباً 7 بجے شروع کیا گیا تھا۔ کارروائی سے قبل حکام کو خفیہ معلومات موصول ہوئی تھیں کہ متعلقہ فیکٹری میں بڑی تعداد میں غیر قانونی تارکین وطن کو ملازمت دی جا رہی ہے۔
کارروائی میں امیگریشن کے نفاذی یونٹ کے علاوہ ملائیشین بارڈر کنٹرول اینڈ پروٹیکشن ایجنسی نے بھی حصہ لیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ جب نفاذی ٹیم فیکٹری میں داخل ہوئی تو متعدد غیر ملکی کارکنان نے موقع سے فرار ہونے کی کوشش کی۔ تاہم امیگریشن اہلکاروں نے فوری طور پر تمام خارجی راستے بند کر دیے جس کے باعث کسی کو فرار ہونے کا موقع نہیں ملا۔
بعد ازاں حکام نے فیکٹری میں موجود تمام افراد کی دستاویزات کی جانچ پڑتال کی۔ اس دوران معلوم ہوا کہ بڑی تعداد میں کارکنان کے پاس درست پاسپورٹ یا ورک پرمٹ موجود نہیں تھے۔
امیگریشن حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ بعض آجر غیر قانونی طریقے سے غیر ملکی کارکنان کو ملازمت دے رہے تھے اور امیگریشن قوانین کی متعدد خلاف ورزیاں کی جا رہی تھیں۔
کارروائی کے دوران فیکٹری کے دو مقامی مرد ملازمین کو بھی گرفتار کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ دونوں افراد فیکٹری کے انسانی وسائل (ایچ آر) شعبے سے منسلک تھے اور ان سے اس معاملے میں مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ فیکٹری میں ہونے والی سرگرمیوں سے یہ بھی شبہ پیدا ہوا ہے کہ غیر قانونی کارکنان کو ملازمت دینے کا عمل منظم انداز میں کیا جا رہا تھا۔
گرفتار کیے گئے تمام افراد کے خلاف امیگریشن ایکٹ 1959/63 اور امیگریشن ریگولیشنز 1963 کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔
تمام غیر قانونی تارکین وطن کو ابتدائی کارروائی کے بعد سیتیا ٹروپیکا امیگریشن ڈیپو منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے رکھا گیا ہے۔
محکمہ امیگریشن کا کہنا ہے کہ ایسے آپریشنز مستقبل میں بھی جاری رہیں گے تاکہ غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائی کی جا سکے اور آجر حضرات کو بھی قوانین کی پابندی کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔
حکام نے کاروباری اداروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ غیر ملکی کارکنان کو ملازمت دینے سے پہلے ان کے قانونی دستاویزات کی مکمل جانچ کریں، بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

COMMENTS