کوالالمپور: ملائیشیا کے ایک شہری نے اپنے منہ میں غیر معمولی طور پر زیادہ دانت ہونے کی وجہ سے عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔ 33 سالہ شخص کے منہ می...
کوالالمپور: ملائیشیا کے ایک شہری نے اپنے منہ میں غیر معمولی طور پر زیادہ دانت ہونے کی وجہ سے عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔ 33 سالہ شخص کے منہ میں مجموعی طور پر 42 دانت ہیں، جو کہ مردوں میں سب سے زیادہ دانت ہونے کا عالمی ریکارڈ قرار دیا گیا ہے۔
یہ منفرد ریکارڈ ملائیشیا کے شہری پرتھاب منیاڈی کے نام درج ہوا ہے، جن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان کے منہ میں عام انسانوں کے مقابلے میں دس اضافی دانت موجود ہیں۔
یہ ریکارڈ عالمی سطح پر معروف ادارے گینیز ورلڈ ریکارڈز کی جانب سے تسلیم کیا گیا، جس کے مطابق عام طور پر ایک بالغ انسان کے منہ میں تقریباً 32 دانت ہوتے ہیں، جبکہ پرتھاب کے منہ میں 42 دانت موجود ہیں۔
رپورٹس کے مطابق پرتھاب منیانڈی پیشے کے اعتبار سے ایک انجینئر ہیں اور تیل و گیس کی صنعت میں کام کرتے ہیں۔ وہ ایک بچے کے والد بھی ہیں اور ملائیشیا میں مقیم ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ انہیں پہلی بار اپنے اضافی دانتوں کے بارے میں اس وقت معلوم ہوا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ایک گھریلو نشست میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اس دوران انہیں محسوس ہوا کہ ان کے منہ میں مزید دانت نکل رہے ہیں۔
پرتھاب کے مطابق یہ واقعہ 2021 میں پیش آیا جب وہ اپنے خاندان کے ساتھ چائے پی رہے تھے۔ اس وقت انہیں احساس ہوا کہ ان کے منہ میں کچھ نئے دانت نکل رہے ہیں جو پہلے موجود نہیں تھے۔
انہوں نے اس بارے میں اپنے خاندان کے افراد سے بات کی جس کے بعد سب نے مل کر ان کے دانت گنے۔ ابتدائی طور پر گنتی کے مطابق ان کے دانتوں کی تعداد 38 نکلی۔
بعد ازاں انہوں نے دانتوں کا ایکسرے کروایا جس سے معلوم ہوا کہ مزید چار دانت ابھی مکمل طور پر باہر نہیں آئے تھے اور مستقبل میں ظاہر ہو سکتے ہیں۔
پرتھاب نے بتایا کہ 2023 کے آغاز تک ان کے دانتوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 42 ہو گئی تھی، جس کے بعد یہ تعداد مردوں میں سب سے زیادہ دانت ہونے کے ریکارڈ کے طور پر سامنے آئی۔
انہوں نے کہا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے زیادہ تر اضافی دانت سیدھی قطار میں نکلے ہیں اور ان سے انہیں کسی قسم کی تکلیف یا طبی مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
ماہرین کے مطابق بعض افراد میں ایک طبی حالت پائی جاتی ہے جسے ہائپرڈونشیا کہا جاتا ہے۔ اس حالت میں عام تعداد سے زیادہ دانت نکل سکتے ہیں۔ تاہم زیادہ تر کیسز میں اضافی دانت مسائل پیدا کر سکتے ہیں، جیسے کہ دانتوں کی ترتیب بگڑ جانا یا درد ہونا۔
لیکن پرتھاب کے کیس میں صورتحال مختلف رہی کیونکہ ان کے اضافی دانتوں نے نہ تو کسی بڑے درد کو جنم دیا اور نہ ہی ان کی روزمرہ زندگی پر منفی اثر ڈالا۔
پرتھاب کا کہنا ہے کہ اکثر لوگ پہلی نظر میں ان کے اضافی دانتوں کو محسوس نہیں کر پاتے۔ تاہم جب وہ خود اس بارے میں بتاتے ہیں تو لوگ حیران رہ جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب وہ لوگوں کو بتاتے ہیں کہ ان کے منہ میں عام انسان سے دس زیادہ دانت ہیں تو اکثر افراد کو اس بات پر یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
پرتھاب کے مطابق وہ اپنی دانتوں کی صحت کے بارے میں بہت محتاط ہیں۔ وہ روزانہ دو مرتبہ دانت صاف کرتے ہیں اور باقاعدگی سے فلاس بھی استعمال کرتے ہیں تاکہ دانت صحت مند رہیں۔
دانتوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کے منہ میں اضافی دانت ہوں تو انہیں باقاعدگی سے دانتوں کے ڈاکٹر سے معائنہ کروانا چاہیے تاکہ کسی ممکنہ پیچیدگی کو بروقت روکا جا سکے۔
پرتھاب کی یہ منفرد خصوصیت اب نہ صرف سوشل میڈیا پر دلچسپی کا باعث بن گئی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی لوگوں کی توجہ حاصل کر رہی ہے۔
ملائیشیا میں اس خبر کے سامنے آنے کے بعد بہت سے افراد نے انہیں مبارکباد دی اور ان کے اس منفرد عالمی ریکارڈ کو دلچسپ اور حیران کن قرار دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی جسم میں ایسے غیر معمولی کیسز سائنسدانوں اور ڈاکٹروں کے لیے بھی تحقیق کا موضوع بن جاتے ہیں کیونکہ ان کے ذریعے انسانی جسم کی ساخت اور نشوونما کے بارے میں نئی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

COMMENTS