ریاست سراواک کے دارالحکومت کوچنگ میں امیگریشن حکام نے ایک مشترکہ آپریشن کے دوران 64 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق یہ کاررو...
ریاست سراواک کے دارالحکومت کوچنگ میں امیگریشن حکام نے ایک مشترکہ آپریشن کے دوران 64 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی غیر قانونی طور پر مقیم افراد اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کی گئی۔
حکام کے مطابق یہ آپریشن 11 مارچ سے 12 مارچ 2026 تک شہر کے مختلف مقامات پر کیا گیا۔ اس کارروائی کی قیادت محکمہ امیگریشن ملائشیا سراواک ڈیویژن نے کی جبکہ اس میں مجموعی طور پر 34 نفاذی افسران نے حصہ لیا۔
بیان کے مطابق کارروائی کا آغاز صبح کے وقت ہوا اور یہ سلسلہ رات گئے تک جاری رہا۔ ابتدائی چھاپے موارا تیباس کے علاقے میں واقع ایک تعمیراتی سائٹ پر مارے گئے جہاں متعدد غیر ملکی کارکنوں کی جانچ پڑتال کی گئی۔
اس کے علاوہ امیگریشن حکام نے پینڈیگ ہائٹس میں واقع چند کھانے پینے کے مراکز اور دیگر تجارتی مقامات پر بھی کارروائی کی۔ حکام کو شبہ تھا کہ ان میں سے بعض مقامات پر آن لائن جوئے کی سرگرمیاں بھی چلائی جا رہی تھیں۔
امیگریشن حکام کے مطابق آپریشن کے دوران بڑی تعداد میں غیر ملکی افراد کی دستاویزات کی جانچ کی گئی۔ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ گرفتار ہونے والے بعض افراد کے پاس درست سفری دستاویزات موجود نہیں تھے جبکہ کچھ افراد اپنے ویزا کی مقررہ مدت سے زیادہ عرصہ تک ملک میں مقیم تھے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ امیگریشن حکام نے شام کے بعد ایک اور کارروائی بھی کی جس میں شہر کے ایک تفریحی مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کارروائی کے دوران 22 غیر ملکی افراد کو گرفتار کیا گیا۔
گرفتار ہونے والوں میں مختلف ممالک کے شہری شامل ہیں جن میں چین، ویتنام، لاؤس، فلپائن اور انڈونیشیا کے شہری شامل ہیں۔ حکام کے مطابق تمام افراد کو مزید تفتیش کے لیے امیگریشن حراستی مرکز منتقل کر دیا گیا ہے۔
امیگریشن حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ان افراد نے امیگریشن ایکٹ 1959/63 کے تحت مختلف خلاف ورزیاں کی ہیں۔ ان میں درست سفری دستاویزات نہ رکھنا اور قیام کی مقررہ مدت سے تجاوز کرنا شامل ہے۔
حکام نے کہا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں ملک میں امیگریشن قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدگی سے کی جاتی ہیں۔ اس کا مقصد یہ بھی ہے کہ غیر قانونی سرگرمیوں اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں کو روکا جا سکے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امیگریشن حکام مختلف اداروں کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے ملک بھر میں ایسے آپریشن جاری رکھیں گے۔ حکام کے مطابق شہریوں اور کاروباری اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ قانون کی پابندی کریں اور صرف قانونی دستاویزات رکھنے والے کارکنوں کو ملازمت دیں۔
امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ ان افراد یا آجر کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے جو ایسے افراد کو پناہ دیتے یا ملازمت فراہم کرتے ہیں۔
حکام نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر انہیں کسی مشکوک سرگرمی یا غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے بارے میں معلومات ہوں تو وہ متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔

COMMENTS