کولائی: ملائیشیا میں آن لائن فراڈ اور مشتبہ سرگرمیوں کے خلاف سخت اقدامات کرتے ہوئے حکام نے 2025 کے دوران 70 ہزار سے زائد موبائل فون لائنیں ب...
کولائی: ملائیشیا میں آن لائن فراڈ اور مشتبہ سرگرمیوں کے خلاف سخت اقدامات کرتے ہوئے حکام نے 2025 کے دوران 70 ہزار سے زائد موبائل فون لائنیں بند کر دیں۔ اس کے ساتھ ہی غیر ملکی شہریوں کے لیے پری پیڈ سم کارڈ رکھنے کے قواعد بھی مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
یہ اقدام ملائشین کمیونیکیشنز اینڈ ملٹی میڈیا کمیشن (ایم سی ایم سی) کی جانب سے کیا گیا، جس نے بتایا کہ گزشتہ سال مجموعی طور پر 70,122 موبائل فون لائنیں بند کی گئیں جو مبینہ طور پر مشکوک سرگرمیوں خصوصاً فراڈ پر مبنی اسکیم ایس ایم ایس بھیجنے کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔
حکام کے مطابق یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً دس گنا زیادہ ہے۔ اس سے پہلے 2024 کے اسی عرصے کے دوران تقریباً 7,409 لائنیں بند کی گئی تھیں۔
ملائیشیا کی نائب وزیر مواصلات تیو نئی چینگ نے کہا کہ آن لائن فراڈ اور سائبر جرائم کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر حکومت نے سم کارڈ رجسٹریشن کے قوانین میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے، خاص طور پر غیر ملکی شہریوں اور سیاحوں کے حوالے سے سخت اقدامات زیر غور ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وزارت مواصلات نے ایم سی ایم سی کے ذریعے پری پیڈ سم کارڈ رجسٹریشن کے رہنما اصولوں کو اپ ڈیٹ کر دیا ہے تاکہ سائبر جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکا جا سکے۔
نئے قوانین کے تحت اب غیر ملکی سیاح یا شہری ایک ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی سے زیادہ سے زیادہ دو پری پیڈ سم کارڈ ہی خرید سکیں گے۔ اس سے پہلے یہ حد پانچ سم کارڈ تک تھی۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایسے عناصر کو روکنا ہے جو متعدد سم کارڈ خرید کر انہیں غیر قانونی سرگرمیوں، خاص طور پر آن لائن فراڈ، دھوکہ دہی اور جعلی پیغامات بھیجنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
نائب وزیر نے مزید بتایا کہ غیر ملکیوں کے لیے جاری کیے جانے والے پری پیڈ سم کارڈ کی مدت بھی محدود کر دی گئی ہے۔ اب یہ سم کارڈ تین ماہ بعد خودکار طور پر غیر فعال ہو جائیں گے۔
ان کے مطابق اس فیصلے کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی غیر ملکی شہری ملائیشیا چھوڑ کر چلا جائے تو اس کے زیر استعمال سم کارڈ بعد میں کسی مجرمانہ سرگرمی کے لیے استعمال نہ کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جہاں غیر ملکی سیاحوں یا کارکنوں کے نام پر رجسٹرڈ سم کارڈ بعد میں فراڈ یا سائبر جرائم میں استعمال ہوتے رہے۔
یہ اعلان انہوں نے کولائی میں کیمپین انٹرنیٹ سیلامت (محفوظ انٹرنیٹ مہم) کے افتتاح کے موقع پر کیا۔
یہ تقریب بازار رمضان تیمینگگونگ میں منعقد ہوئی جس کا مقصد عوام میں ڈیجیٹل شعور کو فروغ دینا اور آن لائن دھوکہ دہی سے بچاؤ کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ آن لائن فراڈ اور سائبر جرائم آج کل دنیا بھر میں ایک بڑا مسئلہ بن چکے ہیں، اس لیے عوام کو بھی اس حوالے سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
نائب وزیر نے مزید کہا کہ ایم سی ایم سی بطور ریگولیٹری ادارہ سم کارڈ رجسٹریشن کے عمل کی سخت نگرانی کر رہا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے ڈیٹا کے غلط استعمال یا جعلی رجسٹریشن کو روکا جا سکے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی یا سم کارڈ ڈسٹری بیوٹر نئے قواعد کی خلاف ورزی کرتا پایا گیا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں بھی ایسے اقدامات جاری رکھے جائیں گے تاکہ ملائیشیا میں آن لائن فراڈ، جعلی پیغامات اور سائبر جرائم کو مؤثر طریقے سے روکا جا سکے۔
انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ مشتبہ پیغامات یا کالز کے بارے میں متعلقہ حکام کو اطلاع دیں اور کسی بھی غیر مصدقہ لنک یا پیغام پر فوری ردعمل دینے سے گریز کریں۔

COMMENTS