ریاست جوہر کے شہر جوہر بہرو میں تقریباً 80 غیر ملکی کارکنوں کو گزشتہ چھ ماہ سے تنخواہ نہ ملنے کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث ان...
ریاست جوہر کے شہر جوہر بہرو میں تقریباً 80 غیر ملکی کارکنوں کو گزشتہ چھ ماہ سے تنخواہ نہ ملنے کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث ان کے لیے آنے والی عیدالفطر کی خوشیاں بھی ماند پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یہ کارکن ایک تعمیراتی کمپنی سے وابستہ ہیں اور پاسر گودانگ کے علاقے میں کام کرتے رہے ہیں۔ کارکنوں کے مطابق انہیں گزشتہ چھ ماہ سے بنیادی تنخواہ اور اوور ٹائم کی ادائیگی نہیں کی گئی، جس کے باعث وہ شدید مالی مشکلات میں مبتلا ہو گئے ہیں۔
متاثرہ کارکنوں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ روزمرہ زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال نہ صرف ایک مالی مسئلہ ہے بلکہ انسانی بحران کی شکل اختیار کر رہی ہے، جس کے حل کے لیے حکومتی مداخلت ضروری ہے۔
کارکنوں کے مطابق کمپنی کی جانب سے مسلسل چھ ماہ تک تنخواہ ادا نہ کیے جانے کے باعث ان کے پاس کوئی مالی ذریعہ باقی نہیں رہا۔ انہوں نے بتایا کہ حالات اس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ کئی کارکنوں کو خوراک کی شدید کمی کا سامنا ہے اور وہ آپس میں کھانا تقسیم کر کے گزارا کر رہے ہیں۔ بعض افراد کو مقامی لوگوں کی مدد اور خیرات پر بھی انحصار کرنا پڑ رہا ہے تاکہ وہ اپنی روزمرہ ضروریات پوری کر سکیں۔
کارکنوں نے بتایا کہ انہوں نے اس مسئلے کے حل کے لیے جنوری میں جباتن ٹیناگا کرجا میں باضابطہ شکایت درج کرائی تھی، تاہم کئی ہفتے گزرنے کے باوجود معاملہ تاحال حل نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق متعلقہ حکام کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کمپنی کے نمائندوں کے ساتھ اگلی باضابطہ ملاقات 17 اپریل کو متوقع ہے۔
کارکنوں کا کہنا ہے کہ اتنی طویل مدت تک انتظار کرنے کے باعث ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر فوری طور پر مسئلہ حل نہ کیا گیا تو ان کے لیے قانونی اور معاشی مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔
متاثرہ کارکنوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ شکایت درج کرانے کے بعد کمپنی کی جانب سے انہیں دھمکیاں دی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آٹھ کارکنوں کو بتایا گیا ہے کہ ان کے معاہدوں کی تجدید نہیں کی جائے گی۔
کارکنوں کے مطابق کمپنی کی غفلت کے باعث چھ کارکن اپنے ورک پرمٹ کی تجدید بھی نہیں کر سکے جبکہ ایک کارکن گزشتہ آٹھ ماہ سے بغیر ورک ویزا کے کام کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو انہیں غیر قانونی کارکن قرار دیے جانے کا خطرہ ہے، جو ان کے لیے مزید قانونی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے حکام سے اپیل کی کہ وہ فوری مداخلت کر کے اس مسئلے کو حل کریں۔ کارکنوں کا مطالبہ ہے کہ کمپنی کو بقایا تنخواہیں ادا کرنے کا پابند بنایا جائے اور انہیں ریلیز لیٹر فراہم کیا جائے تاکہ وہ کسی دوسری کمپنی میں ملازمت تلاش کر سکیں۔
کارکنوں کے مطابق وہ نہ صرف اپنے خاندانوں کی کفالت کے لیے ملائیشیا آئے تھے بلکہ یہاں آنے کے لیے انہیں قرض بھی لینا پڑا تھا۔ ایسے میں اگر تنخواہیں ادا نہ کی گئیں تو ان کے لیے قرض کی ادائیگی اور خاندان کی مدد کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔
دوسری جانب کمپنی کے ترجمان لا یک ہوئی نے کہا کہ کمپنی اس مسئلے سے آگاہ ہے اور اسے حل کرنے کے لیے حکام کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔ ان کے مطابق کمپنی تنخواہیں ادا کرنے سے انکار نہیں کر رہی بلکہ معاملے کو قانونی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس دوران کمپنی کی جانب سے کارکنوں کو خوراک فراہم کی جا رہی ہے اور انہیں کچھ مالی مدد بھی دی جا رہی ہے تاکہ وہ اپنی ضروریات پوری کر سکیں۔
کمپنی کے ترجمان کے مطابق اس معاملے پر بنگلہ دیش ہائی کمیشن سے بھی رابطہ کیا گیا ہے اور مسئلے کے حل کے لیے ایک فریم ورک تجویز کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق چند کارکن پہلے ہی اس حل پر رضامند ہو کر اپنی شکایات واپس لے چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کمپنی اس مسئلے کو ذمہ داری کے ساتھ حل کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ کارکنوں کی فلاح و بہبود متاثر نہ ہو۔
اس معاملے پر مزید وضاحت کے لیے جباتن ٹیناگا کرجا جوہر سے بھی رابطہ کیا گیا ہے، تاہم خبر شائع ہونے تک وہاں سے کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا۔

COMMENTS